کھوجی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کھوج نکالنے والا، سراغ لگانے والا، سراغ رساں، پاؤں کے نشانات سے سراغ لگانے والا۔ "فکر نہ کرو قائم پور سے میں نے فدایا کھوجی کو بلاوا بھیج دیا ہے"      ( ١٩٨٦ء، سہ حدہ، ٤٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'کھوج' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ نسبت و فاعلی بڑھانے سے 'کھوجی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٤٧ء کو "تاریخِ ابو الفدا (ترجمہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھوج نکالنے والا، سراغ لگانے والا، سراغ رساں، پاؤں کے نشانات سے سراغ لگانے والا۔ "فکر نہ کرو قائم پور سے میں نے فدایا کھوجی کو بلاوا بھیج دیا ہے"      ( ١٩٨٦ء، سہ حدہ، ٤٩ )

اصل لفظ: کھج
جنس: مذکر