کھچاؤ
معنی
١ - تناؤ، کساؤ، کشیدگی۔ "ہر قسم کے دباؤ اور کھچاؤ کے باوجود یہ نظام درہم برہم نہیں ہوا۔" ( ١٩٨٦ء، وفاقی محتسب ادارے کی سالانہ رپورٹ، ٦٨٦ ) ٢ - کشش، کھینچ، جاذبیت۔ "میں نے پھول متی . کی طرف اپنے دل کا زیادہ کھچاؤ دیکھا۔" ( ١٩٣٦ء، پریم چند، خاک پروانہ، ١٠ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ 'کھچنا' کا حاصل مصدر ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٦ء کو "مثنوی امیر و بیم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تناؤ، کساؤ، کشیدگی۔ "ہر قسم کے دباؤ اور کھچاؤ کے باوجود یہ نظام درہم برہم نہیں ہوا۔" ( ١٩٨٦ء، وفاقی محتسب ادارے کی سالانہ رپورٹ، ٦٨٦ ) ٢ - کشش، کھینچ، جاذبیت۔ "میں نے پھول متی . کی طرف اپنے دل کا زیادہ کھچاؤ دیکھا۔" ( ١٩٣٦ء، پریم چند، خاک پروانہ، ١٠ )