کھیت
معنی
١ - ایک قطعۂ زمین جس میں زراعت کی جائے، زیرِ کاشت زمین کا ٹکڑا، کشت۔ "محافظ گشت پر تھا، دور پھولوں سے بھرے اس کھیت میں کیا اس نے دیکھا تھا?۔" ( ١٩٨٩ء، گلِ صد برگ، ٣٩ ) ٢ - [ مجازا ] کھیت میں اُگی ہوئی چیز، کھیتی "گرمیوں میں جب گیہوں کے کھیت پک جاتے ہیں اس وقت گرمی کی دیوی کا شباب بھی تنت پر ہوتا ہے۔" ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ١١٠ ) ٣ - میدانِ جنگ، میدانِ کارزار۔ "جفا اُٹھانے سے اور حوصلہ بڑھا آج تک کھیت سے پانوں نہیں ہٹایا۔" ( ١٨٩٦ء، طلسم ہوشربا، ٣٦:٧ ) ٤ - خطہ، دیس، دھرتی۔ کیا ٹھکانہ ہے گلعذاروں کا کھیت ہے ہند وضعداروں کا ( ١٨٧٩ء، دیوانِ عیش دہلوی، ٨٢ ) ٦ - تلوار کا وہ حصہ جو قبضے کے اوپر اور نوک کے نیچے ہوتا ہے؛ مراد میدانِ جنگ۔ چاکِ پیراہن ہر اک گل کا بعینہ زخم ہے کھیت ہے تلوار کا یارب کہ میدانِ بہار ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ٨١ ) ٨ - چاندنی، زمین پر پھیلی ہوئی چاندنی، مہتاب کی نور افشانی۔ کیوں ڈھونڈتا ہے سایۂ دامانِ ماہرو کیا چاندنی کے کھیت سے پھل پائے گا یہ دل ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٢١ ) ٩ - سانپوں کی پیدایش کی جگہ نیز ان کی اصل اور نسل۔ ہر ایک مارسیہ زلف و گیسو و کلر گل تمہارے بال ہیں یا کھیت ہے یا کالوں کا ( ١٨٨٤ء، آفتابِ داغ، ٣٩ ) ١٠ - گھوڑے کی پیدایش کی جگہ، گھوڑوں کا علاقہ نیز ان کی اصل اور نسل۔ "شمال کی سرد ہوا. جہاں صبا رفتار گھوڑوں کا کھیت ہے تیز و تند آتی ہے۔" ( ١٩٠١ء، مضامین سلیم، ٨:٣ ) ١١ - [ علم ہندسہ ] سطح، ہموار بیرونی سطح (جامع اللغات؛ پلیٹس)۔ ١٢ - مقدس مقام، پرتھ۔ (جامع اللغات؛ پلیٹس)۔
اشتقاق
سنسکرت الاصل لفظ 'کشیتر' سے ماخوذ 'کھیت' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ایک قطعۂ زمین جس میں زراعت کی جائے، زیرِ کاشت زمین کا ٹکڑا، کشت۔ "محافظ گشت پر تھا، دور پھولوں سے بھرے اس کھیت میں کیا اس نے دیکھا تھا?۔" ( ١٩٨٩ء، گلِ صد برگ، ٣٩ ) ٢ - [ مجازا ] کھیت میں اُگی ہوئی چیز، کھیتی "گرمیوں میں جب گیہوں کے کھیت پک جاتے ہیں اس وقت گرمی کی دیوی کا شباب بھی تنت پر ہوتا ہے۔" ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ١١٠ ) ٣ - میدانِ جنگ، میدانِ کارزار۔ "جفا اُٹھانے سے اور حوصلہ بڑھا آج تک کھیت سے پانوں نہیں ہٹایا۔" ( ١٨٩٦ء، طلسم ہوشربا، ٣٦:٧ ) ١٠ - گھوڑے کی پیدایش کی جگہ، گھوڑوں کا علاقہ نیز ان کی اصل اور نسل۔ "شمال کی سرد ہوا. جہاں صبا رفتار گھوڑوں کا کھیت ہے تیز و تند آتی ہے۔" ( ١٩٠١ء، مضامین سلیم، ٨:٣ )