کیوں

قسم کلام: حرف استفہام

معنی

١ - کس لیے، کس، واسطے۔ "بڑے تردد سے پوچھا یہ اتنی دبلی کیوں ہے۔"      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، جون، ٥٩ ) ٢ - تخاطب یا استفسار کے موقع پر کیا بات ہے، کیا سبب ہے۔ "میں نے کہا کیوں تم افسردہ کیوں ہو۔"      ( ١٩١٦ء، سی پارۂ دل، ١٣٧:١ ) ٣ - کیسے، کیونکر۔  میں نہ دکھاؤں گر خواب تقدیر کے کیوں جہاں اپنی گردش پہ قائم رہے      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١٧٦ ) ٤ - اس لیے کہ، کیونکہ۔  قصہ حسن و عشق میں چپ رہ کیوں یہ قصہ ہے عیش آپس کا      ( ١٨٧٩ء، دیوان عشق دہلوی (حکیم آغا جان) ٨١ ) ٥ - (کیا خیال ہے کی جگہ)، یہ تو بتاؤ، ذرا غور کرو، انصاف سے کہو۔  کیوں شرط وفا اسی کا ہے نام تم تو کرو ترک میں نبا ہوں      ( ١٩٠٧ء، کلیات اسراراللہ، ١٢٨ ) ٦ - کیسا "محمود ایاز . ایاز کوں پوچھے میں کیوں دستا ہوں ہورتوں کیوں دستا ہے۔"      ( ١٦٠٣ء، شرح تمہدات ہمدانی (ترجمہ) ٥٧ ) ٧ - استفہام انکار کے موقع پر۔  آگیا برسات کا موسم وہ اب کیوں آئیں گے اون کے ہاتھ آیا ہے عذر باد باراں آج کل      ( ١٩٦١ء، دیوان ناظم، ١٠٦ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساسھ بطور حرف استفہام استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کس لیے، کس، واسطے۔ "بڑے تردد سے پوچھا یہ اتنی دبلی کیوں ہے۔"      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، جون، ٥٩ ) ٢ - تخاطب یا استفسار کے موقع پر کیا بات ہے، کیا سبب ہے۔ "میں نے کہا کیوں تم افسردہ کیوں ہو۔"      ( ١٩١٦ء، سی پارۂ دل، ١٣٧:١ ) ٦ - کیسا "محمود ایاز . ایاز کوں پوچھے میں کیوں دستا ہوں ہورتوں کیوں دستا ہے۔"      ( ١٦٠٣ء، شرح تمہدات ہمدانی (ترجمہ) ٥٧ )