گا
معنی
١ - [ قواعد ] فعل مستقبل کے صیغوں کے آخر میں مستعمل، جیسے : آئے گا، جائے گا، کھائے گا۔ 'معراج العاشقین میں 'گا' بڑھا کر فعل مستقبل بنایا گیا ہے، تجھ، مجھ کی جگہ میرا، تیرا معیاری ضمیریں استعمال ہوئ ہیں"۔ ( ١٩٦٦ء، اردو لسانیات،٣٣ ) ٢ - کلمات کے آخر میں نسبت کے معنی دیتا ہے، جیسے : اڑنگا وغیرہ میں۔
اشتقاق
ہندی زبان سے علامت مستقبل کے طور پر مستعمل ہے۔ اردو میں 'معراج العاشقین" میں سب سے پہلے مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - [ قواعد ] فعل مستقبل کے صیغوں کے آخر میں مستعمل، جیسے : آئے گا، جائے گا، کھائے گا۔ 'معراج العاشقین میں 'گا' بڑھا کر فعل مستقبل بنایا گیا ہے، تجھ، مجھ کی جگہ میرا، تیرا معیاری ضمیریں استعمال ہوئ ہیں"۔ ( ١٩٦٦ء، اردو لسانیات،٣٣ )