گاؤدی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے وقوف، احمق، گھامڑ۔  بندے میں خوبیاں ہوں تو کوتاہیاں معاف گو گاؤدی ہے بات یہ کرتا ہے صاف صاف      ( ١٩٨٤ء، قہر عشق (ترجمہ)، ١٤١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٥٦ء کو "کلیاتِ ظفر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔