گالا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دھنکی ہوئی صاف روئی کی تھوڑی سی مقدار کا گولا یا پیل۔ "یہ وہ دن ہے جب لوگ پریشان پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوں گے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٨٤:٤ ) ٢ - [ کنایۃ ]  نہایت سفید۔ "اس کی کالی زلفیں روئی کے گالوں کی طرح سفید ہو گئیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٢ ) ٣ - کوئی گولا سی گیلی اور سفید شے۔ "جیسے ٹھنڈے ملک کی کسی مسجد کے دروازے کی محراب میں آسمانی برف کا بڑا سا گالا لٹکا ہو۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٢١٩ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں دخیل اسم 'گاں' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقہ نسبت و تذکیر لگانے سے 'گالا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٦٥٧ء کو "گلشنِ عشق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھنکی ہوئی صاف روئی کی تھوڑی سی مقدار کا گولا یا پیل۔ "یہ وہ دن ہے جب لوگ پریشان پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوں گے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٨٤:٤ ) ٢ - [ کنایۃ ]  نہایت سفید۔ "اس کی کالی زلفیں روئی کے گالوں کی طرح سفید ہو گئیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٢ ) ٣ - کوئی گولا سی گیلی اور سفید شے۔ "جیسے ٹھنڈے ملک کی کسی مسجد کے دروازے کی محراب میں آسمانی برف کا بڑا سا گالا لٹکا ہو۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٢١٩ )

اصل لفظ: گال
جنس: مذکر