گانٹھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دھاگے، ڈوری اور رسی وغیرہ کو بل دے کر بنایا ہوا بندھن یا حلقہ جو کسا جا سکتا ہو گرہ، بند، عقدہ۔ "اب وہ جس دھاگے کے چھوتی، گانٹھ بن جاتا وہ، دھیرے دھیرے وہ اونچا اٹھتا گیا، ایک ماورائی طاقت کی طرح ہر طرف بکھر گیا۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١١ ) ٢ - گٹھٹر، پارسل، گٹھا، بنڈل۔ "تینوں سے ریشہ . گانٹھوں کی شکل میں منڈی کو روانہ کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٧٠ ) ٣ - ان بن، عداوت، کشیدگی۔  موبمو دل میں گانٹھ رکھتی ہے زلف بے وجہ آنٹھ رکھتی ہے      ( ١٨٣٨ء، نصیر دہلوی (فرہنگِ آصفیہ) ) ٤ - ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی گرہ، جوڑ۔ "ہر انگلی میں ایک گانٹھ بہت ہی خار دار ہے۔"      ( ١٨٤١ء، مقاصد علوم، ٩٣ ) ٥ - گنے یا مکئی کے تنے کی پور یا گرہ۔ "جوار کا پودا ایک سالہ ہوتا ہے . ہر ایک گانٹھ پر ایک پتا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، چارے، ٩٨ ) ٦ - لکڑی کی گرہ۔ "جس لکڑی میں گانٹھ آر پار ہو وہ ردی ہے۔"      ( ١٩١٣ء، انجینئرنگ بک، ١١ ) ٧ - سونٹھ یا ہلدی کی گانٹھ، ہلدی کی پور۔ "ہر شہر ہلدی کے پودے کی طرح ہے جس کی گانٹھیں زیر زمین پھیلتی جاتی ہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٢٧ ) ٨ - [ کنایۃ ]  بنا، بنیاد، جڑ، اصل سبب، علت۔ "بہو آئی تو فساد کی گانٹھ، لڑائی کی پوٹ۔      ( ١٨٦٨ء، مرآۃ العروس، ٢٩٣ ) ٩ - غدود، گلٹی۔ "عقاب میں . وہ گانٹھ جہاں سے رگ بصارت نکلتی ہے کل دماغ کی ایک تہائی کے برابر ہوتی ہے۔"      ( ١٨٩٥ء، فرینالوجی، ١٤ ) ١٠ - عہدوپیمان، قول و قرار، باہمی معاہدہ۔ (فرہنگ آصفیہ، نوراللغات) ١١ - گٹھلی کا گودا۔ (پلیٹس، جامع اللغات) ١٢ - ناف۔ (فرہنگِ آصیفہ) ١٣ - مشکل وقت، وہ محدود چار خانہ جسے عورتیں لکڑی کے اڈے پر چڑھا کر طرح طرح کے کشیدے کاڑھتی ہیں، سازش، اتفاق، بیاہ، شادی۔ (ماخوذ: جامع اللغات) ١٤ - جیب، کیسہ، بٹوا، ذاتی ملکیت یا قبضہ۔ "مگر اسکول کھولنے کے لیے گانٹھ میں رقم ہونا بنیادی شرط ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١٦٣ ) ١٥ - سدہ، جیسے "پیٹ میں گانٹھیں ہیں۔" (فرہنگِ آصفیہ) ١٦ - [ ٹھگی ]  پھانسی کے رو مال کی گرہ۔ (مصطلحات ٹھگی، 131)

اشتقاق

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'گرنتھ' سے ماخوذ اردو میں 'گانٹھ' مستعمل ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھاگے، ڈوری اور رسی وغیرہ کو بل دے کر بنایا ہوا بندھن یا حلقہ جو کسا جا سکتا ہو گرہ، بند، عقدہ۔ "اب وہ جس دھاگے کے چھوتی، گانٹھ بن جاتا وہ، دھیرے دھیرے وہ اونچا اٹھتا گیا، ایک ماورائی طاقت کی طرح ہر طرف بکھر گیا۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١١ ) ٢ - گٹھٹر، پارسل، گٹھا، بنڈل۔ "تینوں سے ریشہ . گانٹھوں کی شکل میں منڈی کو روانہ کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٧٠ ) ٤ - ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی گرہ، جوڑ۔ "ہر انگلی میں ایک گانٹھ بہت ہی خار دار ہے۔"      ( ١٨٤١ء، مقاصد علوم، ٩٣ ) ٥ - گنے یا مکئی کے تنے کی پور یا گرہ۔ "جوار کا پودا ایک سالہ ہوتا ہے . ہر ایک گانٹھ پر ایک پتا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، چارے، ٩٨ ) ٦ - لکڑی کی گرہ۔ "جس لکڑی میں گانٹھ آر پار ہو وہ ردی ہے۔"      ( ١٩١٣ء، انجینئرنگ بک، ١١ ) ٧ - سونٹھ یا ہلدی کی گانٹھ، ہلدی کی پور۔ "ہر شہر ہلدی کے پودے کی طرح ہے جس کی گانٹھیں زیر زمین پھیلتی جاتی ہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٢٧ ) ٨ - [ کنایۃ ]  بنا، بنیاد، جڑ، اصل سبب، علت۔ "بہو آئی تو فساد کی گانٹھ، لڑائی کی پوٹ۔      ( ١٨٦٨ء، مرآۃ العروس، ٢٩٣ ) ٩ - غدود، گلٹی۔ "عقاب میں . وہ گانٹھ جہاں سے رگ بصارت نکلتی ہے کل دماغ کی ایک تہائی کے برابر ہوتی ہے۔"      ( ١٨٩٥ء، فرینالوجی، ١٤ ) ١٤ - جیب، کیسہ، بٹوا، ذاتی ملکیت یا قبضہ۔ "مگر اسکول کھولنے کے لیے گانٹھ میں رقم ہونا بنیادی شرط ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١٦٣ ) ١٥ - سدہ، جیسے "پیٹ میں گانٹھیں ہیں۔" (فرہنگِ آصفیہ)

اصل لفظ: گرنتھ
جنس: مؤنث