گتھی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ گرہ جو دھاگے، ڈور یا تار وغیرہ کے الجھ جانے سے پڑ جاتی ہے۔ "کبھی کبھی ایسی گتھیاں ڈال دیتے کہ لمڈورے کی نوبت آ جاتی۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٢٠، ٤:٨ ) ٢ - [ کنایۃ ]  الجھن، پریشانی۔ "افلاطون اور ارسطو کا یونان جنھوں نے فلسفہ، قانون، شہریت اور ادب کی گتھیوں کو سلجھا کر آنے والے ادوار میں انسانی فکر اور تخیل کی راہیں آسان کر دیں۔"      ( ١٩٩٢ء، اردونامہ، لاہور، جولائی، ١٥ ) ٣ - تھیلی "گتھی میں دو پتھر ہوتے ہیں اور ایک لوہے کا ٹکڑا جسے چکماک بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، بلوچستان (ماضی، حال، مستقبل)، ١٠٨ ) ٤ - چکتا، پھٹکی، نشان، داغ، دھبا (انگ : Clot) "اگر ایک دو دن یہ مرض اور باقی رہتا تو اس میں گتھیاں بلند ہو کر لحاۃ تک پہونچ جاتیں۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٧٥ )

اشتقاق

پراکرت زبان کے لفظ 'گتھ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت و تانیث لگانے سے 'گتھی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠١ء کو "الف لیلہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ گرہ جو دھاگے، ڈور یا تار وغیرہ کے الجھ جانے سے پڑ جاتی ہے۔ "کبھی کبھی ایسی گتھیاں ڈال دیتے کہ لمڈورے کی نوبت آ جاتی۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٢٠، ٤:٨ ) ٢ - [ کنایۃ ]  الجھن، پریشانی۔ "افلاطون اور ارسطو کا یونان جنھوں نے فلسفہ، قانون، شہریت اور ادب کی گتھیوں کو سلجھا کر آنے والے ادوار میں انسانی فکر اور تخیل کی راہیں آسان کر دیں۔"      ( ١٩٩٢ء، اردونامہ، لاہور، جولائی، ١٥ ) ٣ - تھیلی "گتھی میں دو پتھر ہوتے ہیں اور ایک لوہے کا ٹکڑا جسے چکماک بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، بلوچستان (ماضی، حال، مستقبل)، ١٠٨ ) ٤ - چکتا، پھٹکی، نشان، داغ، دھبا (انگ : Clot) "اگر ایک دو دن یہ مرض اور باقی رہتا تو اس میں گتھیاں بلند ہو کر لحاۃ تک پہونچ جاتیں۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٧٥ )

جنس: مؤنث