گجر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گھڑیال، بڑا گھنٹہ۔ "اعلان وقت کے مختلف ذرائع تھے کہیں نقارہ بجایا جاتا کہیں گھنٹہ کہیں گجر اور کہیں قرنا پھونکتے تھے۔"      ( ١٩٦٤ء، غالب کون ہے، ١٥١ ) ٢ - پہر کا باجا، چار، آٹھ اور بارہ بجے گھنٹوں کا مکرر بجنا پہلے زمانے میں صرف صبح کے وقت گجر بجایا جاتا تھا اب ہر 4، 8، 12 گھنٹوں پر بجایا جاتا ہے۔ "دلی کے سیلانی تو بھیگتی رات کے ساتھ پھریری لیتے ہیں اور عقیدت مند بارہ کے گجر کے بعد جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٢ ) ٣ - [ مجازا ]  صبح صادق کا وقت۔ "سرخروئی سے آرام کیا گجر سے پہلے جن نے بدرالدین کو دلہن کے پہلو سے اوٹھا لیا۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ١١٢:١ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٤١ء کو شاکر ناجی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھڑیال، بڑا گھنٹہ۔ "اعلان وقت کے مختلف ذرائع تھے کہیں نقارہ بجایا جاتا کہیں گھنٹہ کہیں گجر اور کہیں قرنا پھونکتے تھے۔"      ( ١٩٦٤ء، غالب کون ہے، ١٥١ ) ٢ - پہر کا باجا، چار، آٹھ اور بارہ بجے گھنٹوں کا مکرر بجنا پہلے زمانے میں صرف صبح کے وقت گجر بجایا جاتا تھا اب ہر 4، 8، 12 گھنٹوں پر بجایا جاتا ہے۔ "دلی کے سیلانی تو بھیگتی رات کے ساتھ پھریری لیتے ہیں اور عقیدت مند بارہ کے گجر کے بعد جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٢ ) ٣ - [ مجازا ]  صبح صادق کا وقت۔ "سرخروئی سے آرام کیا گجر سے پہلے جن نے بدرالدین کو دلہن کے پہلو سے اوٹھا لیا۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ١١٢:١ )

جنس: مذکر