گجرا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - قریب قریب گتھا ہوا پھولوں کا ہار۔  وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں      ( ١٩٧٤ء، لوح دل، ٣٩ ) ٢ - پھولوں کا گہنا جو عورتیں کلائیوں میں پہنتی ہیں، پھولوں کا کنگن۔  پس گئی پھولوں کے گجرے سے کلائی ان کی نبض کی طرح تڑپتی ہے نزاکت کیسی      ( ١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ٢٦٨ ) ٣ - موتی اور سونے سے بنایا جانے والا ہاتھوں یا گلے کا زیور۔ "گجرا . ہاتھوں کا زیور دستوانہ کی طرح ہے جو موتی اور سونے سے بنایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٢٨٤:٢ ) ٥ - [ باجاسازی ]  طبلے کی طبلق یا گردے کا سر بند، ڈھول اور اسی قسم کے باجوں کے منہ کا مندھا ہوا چمڑا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 142:4)

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - موتی اور سونے سے بنایا جانے والا ہاتھوں یا گلے کا زیور۔ "گجرا . ہاتھوں کا زیور دستوانہ کی طرح ہے جو موتی اور سونے سے بنایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٢٨٤:٢ )

جنس: مذکر