گراں
معنی
١ - وزن، بھاری، ثقیل۔ برابر کب اترتے حسن و عشق اے شوق میزاں میں جو یہ پلہ سبک ہوتا تو وہ پلہ گراں ہوتا ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ١١٠ ) ٢ - ارزاں کا نقیض، مہنگا، بیش قیمت، بیش بہا۔ جب تک رہے ہو ایک گراں سے گرا تھے ہم اتنا تو سوچنا تھا کہاں ہو، کہاں تھے ہم ( ١٩٧٤ء، دارین، ٤٦ ) ٣ - ناگوار، تکلیف دہ، اجیرن، دوبھر (بیشتر پر کے ساتھ)۔ "سفرنامۂ یورپ میں اعدادو شمار کی فراوانی ذہن پر گراں گزرتی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ١٨٦ ) ٤ - دشوار، مشکل۔ "گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٤٩:٣ ) ٥ - کسی چیز کی کثرت، شدت، اور اہمیت ظاہر کرنے کے لیے۔ "ٹھیکیدار نانا کے گراں ترکے میں خیر چہارم کا شریک تو نعیم دھرم کا تھا ہی۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٩١ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - ناگوار، تکلیف دہ، اجیرن، دوبھر (بیشتر پر کے ساتھ)۔ "سفرنامۂ یورپ میں اعدادو شمار کی فراوانی ذہن پر گراں گزرتی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ١٨٦ ) ٤ - دشوار، مشکل۔ "گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٤٩:٣ ) ٥ - کسی چیز کی کثرت، شدت، اور اہمیت ظاہر کرنے کے لیے۔ "ٹھیکیدار نانا کے گراں ترکے میں خیر چہارم کا شریک تو نعیم دھرم کا تھا ہی۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٩١ )