گرد

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - غبار، دھول، مٹی۔ "کہیں راستے کی گرد نے نظر کو دھندلا، تصور کی داغ دار، قدم کو افزش پر آمادہ نہیں کیا۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پایہ جولاں چلو، ٧١ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حقیقت، ہیچ، ماند۔ "ذمہ داری کا احساس ٹھوس تجربہ اور زندہ حقیقت کے آگے گرد ہو کر رہ گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٢٣٤ ) ٣ - [ شکار ]  آٹھ یا دس نمبر کے چھرلے۔ (شکار، 122:1)۔ ٤ - نفیس ریشم کی ایک قسم، دھلے ہوئے ریشم کا بنا ہوا کپڑا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 85:2، لغات ہیرا)

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غبار، دھول، مٹی۔ "کہیں راستے کی گرد نے نظر کو دھندلا، تصور کی داغ دار، قدم کو افزش پر آمادہ نہیں کیا۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پایہ جولاں چلو، ٧١ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حقیقت، ہیچ، ماند۔ "ذمہ داری کا احساس ٹھوس تجربہ اور زندہ حقیقت کے آگے گرد ہو کر رہ گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٢٣٤ )

جنس: مؤنث