گردان

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ہر طرف اڑ کر پھر اپنے گھر لوٹ کر آنے اور دوسری جگہ نہ بیٹھنے والا، دوسروں کو بھی ساتھ لانے والا (کبوتر کے لیے مستعمل)۔  جاؤں میں یاں سے کہیں آؤں گا پھر کر میں یہیں میں ترے گھر کا کبوتر بن گیا گردان ہوں      ( ١٨٥٦ء، کلیات ظفر، ٧٩:٤ ) ٢ - گول، مدور۔ "پھند نے دار گردن ٹوپیاں کلا بتونی کام کی پہنے ہوئے . ہانکتے جاتے ہیں۔"      ( ١٨٨٥ء، بزم آخر، ٩٦ ) ١ - چکر، پھیری، دور، پھراؤ۔ (علمی اردو لغت، فرہنگ آصفیہ) ٢ - کسی عمل کی تکرار، ورد، امادہ۔ "حکیم صاحب . ہوالشافی کے بعد جب نسخہ لکھیں گے تو وہی آمیختہ و ریختہ کی گردان کی جائے گی۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثر اردو، ٢٧:١ ) ٣ - [ صرف ]  فعل کے صیغوں مثلاً ماضی، مضارع، حال اور مستقبل وغیرہ کی ترتیب۔ "بہاری زبان میں فعل کی گردان کا پیچیدہ نظام منڈا کے اثر کا نتیجہ ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ٢٢٨ ) ٤ - دہرانا، بار بار پڑھنا، رٹ، اموختہ کی تلاوت، قرآن شریف کا دور۔ "حافظ حسن جان سے کلام مجید کا گردان کر مکتب کا مرحلہ طے کر لیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٩١:٣ ) ٥ - [ نجاری - مذکر ]  دروازے کے پٹوں کو اندر سے بلند رکھنے والی آڑ جو ایک چوکور یا گول مضبوط لکڑی ہوتی ہے، اڑ ڈنڈا، سر کونڈا۔ (اصطلاحاتِ، پیشہ وراں، 44:1)

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گول، مدور۔ "پھند نے دار گردن ٹوپیاں کلا بتونی کام کی پہنے ہوئے . ہانکتے جاتے ہیں۔"      ( ١٨٨٥ء، بزم آخر، ٩٦ ) ٢ - کسی عمل کی تکرار، ورد، امادہ۔ "حکیم صاحب . ہوالشافی کے بعد جب نسخہ لکھیں گے تو وہی آمیختہ و ریختہ کی گردان کی جائے گی۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثر اردو، ٢٧:١ ) ٣ - [ صرف ]  فعل کے صیغوں مثلاً ماضی، مضارع، حال اور مستقبل وغیرہ کی ترتیب۔ "بہاری زبان میں فعل کی گردان کا پیچیدہ نظام منڈا کے اثر کا نتیجہ ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ٢٢٨ ) ٤ - دہرانا، بار بار پڑھنا، رٹ، اموختہ کی تلاوت، قرآن شریف کا دور۔ "حافظ حسن جان سے کلام مجید کا گردان کر مکتب کا مرحلہ طے کر لیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٩١:٣ )