گردہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جسم میں موجود دو غدود نما اندرونی اعضاء میں سے کوئی ایک جو پیٹ کے پچھلے حصے کے جوف میں واقع ہوتے ہیں، دونوں گردوں کا کام جگر سے وریدوں کے ذریعے مائیت کو جذب کرنا اور پیشاب کو مثانے میں بھیجنا ہوتا ہے، کلیہ۔ "خراب خون گردوں سے چھن کر صاف ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، متوازن غذا، ٢٨ ) ٢ - [ مجازا ]  جرأت، حوصلہ، دلیری، بہادری، ہمت، دل گردہ۔ "مرد جب تک شہ نہ دے عورت کا اتنا گردہ ہو ہی نہیں سکتا۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٦٠ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٥ء کو "دیوانِ نسیم دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جسم میں موجود دو غدود نما اندرونی اعضاء میں سے کوئی ایک جو پیٹ کے پچھلے حصے کے جوف میں واقع ہوتے ہیں، دونوں گردوں کا کام جگر سے وریدوں کے ذریعے مائیت کو جذب کرنا اور پیشاب کو مثانے میں بھیجنا ہوتا ہے، کلیہ۔ "خراب خون گردوں سے چھن کر صاف ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، متوازن غذا، ٢٨ ) ٢ - [ مجازا ]  جرأت، حوصلہ، دلیری، بہادری، ہمت، دل گردہ۔ "مرد جب تک شہ نہ دے عورت کا اتنا گردہ ہو ہی نہیں سکتا۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٦٠ )

جنس: مذکر