گروہ
معنی
١ - جماعت، آدمیوں کا جتھا، ٹولی، منڈلی۔ "وہاں اس روز بھی ادیبوں کا ایک گروہ موجود تھا، دراصل آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر معین اعجاز اس گروہ کے روح رواں ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، موسموں کا عکس، ٣١ ) ٢ - فرقہ، جرگہ۔ "مسلمان آپس میں گروہ بنا بنا کر دشمنیوں پر آمادہ ہوتے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٤ ) ٣ - لشکر، فراہم شدہ فوج۔ "موتہ کی مہم اسی وجہ سے پیش آتی تھی مجرم سردار مسمیٰ شرجیل بن عمرو الفسانی کو سزا دینے کے لیے ایک گروہ بھیجا گیا تھا۔" ( ١٩١٢ء، تحقیق الجہاد، ١٦١ ) ٤ - گچھا، جھنڈ۔ "عام طور پر اس گدی (پیڈ) کی ساخت کو ایک رشیے دار گروہ کا جال کہہ سکتے ہیں۔" ( ١٩٠٥ء، دستور العمل نعل بندی اسپاں، ٣٩ ) ٥ - قسم، درجہ۔ "سندھ کا ریگستان بھاولپور کے ریگستان سے بہت ملتا جلتا ہے ان دونوں . کو ایک گروہ میں شمار کیا جاتا ہے۔" ( ١٩٥٤ء، خطے اور ان کے وسائل، ٩ ) ٦ - صنف، جنس۔ "اس گروہ میں . تمام فصیلے مکمل قلب ماہیت کی خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔" ( ١٩٧١ء، حشریات، ٩٣ ) ٧ - کمپنی۔ "بیچ ١٥٩ عیسوی کے ایک گروہ منعقد ہوئی کہ ہندوستان سے تجارت شروع کریں۔" ( ١٨٦٦ء، صلحنامہ جات و عہد نامجات اسناد، ٣٤٠:١ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠١ء کو "باغ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جماعت، آدمیوں کا جتھا، ٹولی، منڈلی۔ "وہاں اس روز بھی ادیبوں کا ایک گروہ موجود تھا، دراصل آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر معین اعجاز اس گروہ کے روح رواں ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، موسموں کا عکس، ٣١ ) ٢ - فرقہ، جرگہ۔ "مسلمان آپس میں گروہ بنا بنا کر دشمنیوں پر آمادہ ہوتے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٤ ) ٣ - لشکر، فراہم شدہ فوج۔ "موتہ کی مہم اسی وجہ سے پیش آتی تھی مجرم سردار مسمیٰ شرجیل بن عمرو الفسانی کو سزا دینے کے لیے ایک گروہ بھیجا گیا تھا۔" ( ١٩١٢ء، تحقیق الجہاد، ١٦١ ) ٤ - گچھا، جھنڈ۔ "عام طور پر اس گدی (پیڈ) کی ساخت کو ایک رشیے دار گروہ کا جال کہہ سکتے ہیں۔" ( ١٩٠٥ء، دستور العمل نعل بندی اسپاں، ٣٩ ) ٥ - قسم، درجہ۔ "سندھ کا ریگستان بھاولپور کے ریگستان سے بہت ملتا جلتا ہے ان دونوں . کو ایک گروہ میں شمار کیا جاتا ہے۔" ( ١٩٥٤ء، خطے اور ان کے وسائل، ٩ ) ٦ - صنف، جنس۔ "اس گروہ میں . تمام فصیلے مکمل قلب ماہیت کی خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔" ( ١٩٧١ء، حشریات، ٩٣ ) ٧ - کمپنی۔ "بیچ ١٥٩ عیسوی کے ایک گروہ منعقد ہوئی کہ ہندوستان سے تجارت شروع کریں۔" ( ١٨٦٦ء، صلحنامہ جات و عہد نامجات اسناد، ٣٤٠:١ )