گریاں

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - روتا ہوا، نالاں، غم زدہ، ملول، افسردہ خاطر، گریہ کناں، اشک بار، آنسو بہانے والا۔ "عوام کے ہجوم میری زندگی کے ہر موڑ پر کبھی گریاں نظر آئیں گے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٥٥ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'گریستن' سے حالیہ ناتمام 'گریاں' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روتا ہوا، نالاں، غم زدہ، ملول، افسردہ خاطر، گریہ کناں، اشک بار، آنسو بہانے والا۔ "عوام کے ہجوم میری زندگی کے ہر موڑ پر کبھی گریاں نظر آئیں گے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٥٥ )

اصل لفظ: گریستن