گریزاں

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بھاگنے پر آمادہ، بھاگتا ہوا۔  ایک اک کرکے پلٹ آئے گریزاں لمحے ایک اک کرکے ہوئے سارے ستارے روشن      ( ١٩٦٥ء، ایک خواب اور، ١٥١ ) ٢ - متنفر، مجتنب، محترز۔ "اس موضوع کو زیر بحث لانے سے گریزاں رہا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریفہ، ٧٧ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'گریختن' کا حالیہ ناتمام 'گریزاں' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - متنفر، مجتنب، محترز۔ "اس موضوع کو زیر بحث لانے سے گریزاں رہا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریفہ، ٧٧ )

اصل لفظ: گریختن