گریہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رونا، آنسو بہانا، اشک باری، زاری، رقت۔ "گریہ زندگی کی بنیادی حقیقت ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ١٩٤ ) ٢ - آنسو، اشک۔  ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا      ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٦ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'گریستن' کا حاصل مصدر 'گریہ' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رونا، آنسو بہانا، اشک باری، زاری، رقت۔ "گریہ زندگی کی بنیادی حقیقت ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ١٩٤ )

اصل لفظ: گریستن
جنس: مذکر