گستاخ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے باک، شوخ، بے شرم۔  اون سے خلوت میں تو ہو غیر اکیلا گستاخ نام رکھیں وہ شرارت سے ہمارا گستاخ      ( ١٨٧٤ء، نشید خسروانی، ٧٧ ) ٢ - بری باتوں میں جری، بدتمیز، بے ادب، بدزبان۔ "بادشاہ سے رہا نہ گیا، کڑک کر بولا گستاخ، ناہنجار، شاہی دربار میں داخلے کے آداب سے تم واقف نہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٧٠٣ ) ٣ - سرکش، نافرمان، دست دراز۔  جی جان سے چاہتے تھے اس کو گستاخ ہوئے اسی سبب سے      ( ١٩٨٣ء، بے نام، ١٦١ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اور بطور صفت مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بری باتوں میں جری، بدتمیز، بے ادب، بدزبان۔ "بادشاہ سے رہا نہ گیا، کڑک کر بولا گستاخ، ناہنجار، شاہی دربار میں داخلے کے آداب سے تم واقف نہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٧٠٣ )