گستاخی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شوخی، بے باکی، بے شرمی، بدتمیزی۔ "باربار کہتے ان کے حضور کسی گستاخی کا تصور کروں تو انسان کے نطفے سے نہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، جنہیں میں نے دیکھا، ١٥٦ ) ٢ - تحقیر، حقارت، شرارت۔ (نوراللغات، علمی اردو لغت)

اشتقاق

فارسی زبان میں صفت 'گستاخ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے اسم 'گستاخی' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شوخی، بے باکی، بے شرمی، بدتمیزی۔ "باربار کہتے ان کے حضور کسی گستاخی کا تصور کروں تو انسان کے نطفے سے نہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، جنہیں میں نے دیکھا، ١٥٦ )

جنس: مؤنث