گفتگو
معنی
١ - بات چیت، بول چال، تقریر، کلام۔ نہ ٹھیرا گیا حرف مطلب پہ عاصم بہت موڑ آئے گئے گفتگو میں ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ١١٨ ) ٢ - شک، شبہ، کلام۔ نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حد نہیں کچھ گفتگو اس باب میں یہ نیک ہے یا بد ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٧٦:١ ) ٣ - چرچا، تذکرہ۔ ممنوں زباں غمزدہ سے کل اس نے کیا کہا ہے میرے ہم زبانوں میں کچھ گفتگو ہنوز ( ١٨٤٤ء، ممنون (فرہنگ آصفیہ)۔ ) ٤ - حجت، تکرار، بحث۔ ہر ایک کا ظرف کھل جائے گا اس میں گفتگو کیا ہے خدا آباد رکھے بزم میں شیشے کو قلقل کو ( ١٨٧٨ء، آغا حسین، دیوان، ١٠٨ ) ٥ - تامل، ہچکچاہٹ۔ ہم نے یہ مانا نہیں دشوار کچھ ترک وفا گفتگو تو صرف اس میں ہے کہ ہم ایسا کریں ( ١٩١٩ء، درشہوار بے خود، ٥٤ ) ٦ - [ تصوف ] اشارات محبت انگیز۔ (مصباح التعرف، 209)
اشتقاق
فارسی زبان کے مصدر 'گفتن' سے حاصل مصدر 'گفتگو' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔