گنجائش
معنی
١ - سمائی، کھپت، سمانے کی جگہ، وسعت۔ "میں نے اپنے دونوں پیروں کو آگے کھسکایا مزید گنجائش پیدا کی۔" ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٦٨ ) ٢ - موقع، محل، جگہ۔ "ماں اور بیٹے کے نفسی تعلق کی تشریح میں ایڈی پس الجھاؤ کے علاوہ بھی بہت کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٢٥ ) ٣ - بساط، مقدور۔ "میں نے اپنے ذمے ڈالے ہیں اگرچہ . مجھ میں دینے کی گنجائش نہیں ہے مگر میں ادا کردوں گا انشاء اللہ تعالٰی۔" ( ١٨٨٤ء، خطوط سرسید، ١١٦ ) ٤ - بچت، کفایت، بچت کا راستہ۔ "سوچا کہ کیا کروں? کہاں سے گنجائش نکالوں? قہر درویش بجان درویش صبح کو تبرید متروک، چاشت کا گوشت آدھا، رات کو شراب و گلاب موقوف، بیس بائیس روپے مہینہ بچا۔" ( ١٨٦٢ء، خطوط غالب، ٧٩ ) ٧ - [ طبیعیات ] برقی بار کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، وہ برقی تار جو موصل کی قوت میں اضافہ کرے۔ "جو اس موصل کو قوۃ میں اکائی پیدا کرے۔" ( ١٩٢٢ء، طبیعیات، عملی، ٨٦:٢ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٣ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سمائی، کھپت، سمانے کی جگہ، وسعت۔ "میں نے اپنے دونوں پیروں کو آگے کھسکایا مزید گنجائش پیدا کی۔" ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٦٨ ) ٢ - موقع، محل، جگہ۔ "ماں اور بیٹے کے نفسی تعلق کی تشریح میں ایڈی پس الجھاؤ کے علاوہ بھی بہت کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٢٥ ) ٣ - بساط، مقدور۔ "میں نے اپنے ذمے ڈالے ہیں اگرچہ . مجھ میں دینے کی گنجائش نہیں ہے مگر میں ادا کردوں گا انشاء اللہ تعالٰی۔" ( ١٨٨٤ء، خطوط سرسید، ١١٦ ) ٤ - بچت، کفایت، بچت کا راستہ۔ "سوچا کہ کیا کروں? کہاں سے گنجائش نکالوں? قہر درویش بجان درویش صبح کو تبرید متروک، چاشت کا گوشت آدھا، رات کو شراب و گلاب موقوف، بیس بائیس روپے مہینہ بچا۔" ( ١٨٦٢ء، خطوط غالب، ٧٩ ) ٧ - [ طبیعیات ] برقی بار کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، وہ برقی تار جو موصل کی قوت میں اضافہ کرے۔ "جو اس موصل کو قوۃ میں اکائی پیدا کرے۔" ( ١٩٢٢ء، طبیعیات، عملی، ٨٦:٢ )