گنجلک

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - مکدر، گندہ، گنجان، الجھا ہوا، گتھا ہوا۔ "غرض آج کا چبوترہ یعنی اسٹیج اتنا گنجلک ہو چکا ہے کہ امانت لکھنوی اور آغا حشر جیسے کینڈے کے لوگ بھی بوکھلا گئے ہیں۔"      ( ١٩٩١ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦٠ ) ٢ - گرہ دار۔ "آواز بھاری و گنجلک ہو کر جسے گھگھی بندھہ جانا کہتے ہیں، بعض دفعہ بالکل بند ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، فلسفۂ جذبات، ١٥٣ ) ٣ - الجھا ہوا، پیچیدہ، مبہم۔  غزل کہا کرو اے بحر صاف صاف ایسی بشکل موج نہ شعروں میں گنجلک دیکھیں      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٤٤ ) ١ - (عبارت یا معنی میں) پیچیدگی، الجھاؤ۔ "بلاغت اس کلام کو کہتے ہیں جو مختصر ہو، جامع ہو، دل کش ہو اور گنجلگ سے بری ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، فن خطابت، ٤٣ ) ٢ - الجھیڑا، الجھن، بکھیڑا۔  فیصلہ بوسوں کا کرلو کہ پھر انکار نہ ہو کوئی گنجلک نہ رہے وقت پہ تکرار نہ ہو      ( ١٩٣٨ء، دو نایاب زمانہ بیاض (شفا لکھنوی)، ٢٦ ) ٣ - گرہ، گانٹھ، کدورت۔  گنجلک نہیں مٹتی جو طبیعت میں پڑی ہے دل تجھ سے کسی طور سے دلبر نہیں ملتا      ( ١٨٤٣ء، دیوان رند، ٢٤٨:٢ ) ٤ - گڑبڑ، فرق۔ "شنکر لہار اور ماتا دین بڑھئی کے حساب میں کچھ گنجلک تھی اسے صاف کرالیا۔"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٦ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں بطور اسم اور گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٣ء کو "دیوان زادہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مکدر، گندہ، گنجان، الجھا ہوا، گتھا ہوا۔ "غرض آج کا چبوترہ یعنی اسٹیج اتنا گنجلک ہو چکا ہے کہ امانت لکھنوی اور آغا حشر جیسے کینڈے کے لوگ بھی بوکھلا گئے ہیں۔"      ( ١٩٩١ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦٠ ) ٢ - گرہ دار۔ "آواز بھاری و گنجلک ہو کر جسے گھگھی بندھہ جانا کہتے ہیں، بعض دفعہ بالکل بند ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، فلسفۂ جذبات، ١٥٣ ) ١ - (عبارت یا معنی میں) پیچیدگی، الجھاؤ۔ "بلاغت اس کلام کو کہتے ہیں جو مختصر ہو، جامع ہو، دل کش ہو اور گنجلگ سے بری ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، فن خطابت، ٤٣ ) ٤ - گڑبڑ، فرق۔ "شنکر لہار اور ماتا دین بڑھئی کے حساب میں کچھ گنجلک تھی اسے صاف کرالیا۔"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٦ )