گور

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - قبر۔ "یہ پولیس کے تعاقب میں اور کبھی پولیس ان کے پیچھے، یوں تو پوتڑوں کے بگڑے گور تک نہ سنبھلے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ١٨٠ ) ٢ - دشت، صحرا، جنگل۔ "گور جنگل اور صحرا کے معنی میں ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٨٠:٦ ) ٣ - گورخر۔  بہرام جو گور کو پکڑ لیتا تھا خود گور کی ہے گرفت میں اب بہرام      ( ١٩٨٢ء، دشت زرفشاں، ٤٠ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قبر۔ "یہ پولیس کے تعاقب میں اور کبھی پولیس ان کے پیچھے، یوں تو پوتڑوں کے بگڑے گور تک نہ سنبھلے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ١٨٠ ) ٢ - دشت، صحرا، جنگل۔ "گور جنگل اور صحرا کے معنی میں ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٨٠:٦ )