گوشوارہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کان کا بالا، بالی، آویزہ، بندا۔ "لکھنؤ کے مشہور اور مقبول زیور یہ ہیں . چھپکا، بندہ، آویزہ، کرن پھول، گوشوارہ . پائل۔"      ( ١٩٨٣ء، لکھنؤ، کی تہذیب، ١٤١ ) ٢ - وہ موتی جو سیپ کے اندر سے ایک ہی نکلتا ہے در یتیم، بڑا موتی، تاج کا موتی۔ "گیارہ فرزند دلبند و ارجمند اس کے درۃ التاج فرقدین گوشوارۂ عرش بریں ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دل فریب، ٣ ) ٣ - زر دوزی کی پٹی جو زیبائش کے لیے دستار میں باندھتے ہیں نیز وہ زیور مرصع جو پگڑی پر باندھتے یا لٹکاتے ہیں، طرہ۔ "سر پر دستار اور دستار پر گوشوارہ۔"    ( ١٩٧٤ء، وہ صورتیں الٰہی، ٣٦ ) ٥ - خلاصۂ حساب، چٹھا بہی، میزان، جوڑ۔ "ڈویژن کی تمام گاڑیوں کی نگہداشت اور ان کے اخراجات کے ماہانہ گوشوارے۔"    ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلات، ١٢٨ ) ٦ - کسی کاغذ کا خلاصہ یا اختصار، معلومات نیز اعداد و شمار کی فہرست یا جدول پٹی۔ "جب کبھی گوشوارہ مرتب ہوتا ہے تو عورت کو پوچھے بنا اس کے خانے میں "خانہ داری" کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے۔"    ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ٩٧ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'گوش' کے ساتھ 'وارہ' بطور لاحقۂ صفت و قابلیت لگانے سے 'گوشوارہ' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٥٤ء کو "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کان کا بالا، بالی، آویزہ، بندا۔ "لکھنؤ کے مشہور اور مقبول زیور یہ ہیں . چھپکا، بندہ، آویزہ، کرن پھول، گوشوارہ . پائل۔"      ( ١٩٨٣ء، لکھنؤ، کی تہذیب، ١٤١ ) ٢ - وہ موتی جو سیپ کے اندر سے ایک ہی نکلتا ہے در یتیم، بڑا موتی، تاج کا موتی۔ "گیارہ فرزند دلبند و ارجمند اس کے درۃ التاج فرقدین گوشوارۂ عرش بریں ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دل فریب، ٣ ) ٣ - زر دوزی کی پٹی جو زیبائش کے لیے دستار میں باندھتے ہیں نیز وہ زیور مرصع جو پگڑی پر باندھتے یا لٹکاتے ہیں، طرہ۔ "سر پر دستار اور دستار پر گوشوارہ۔"    ( ١٩٧٤ء، وہ صورتیں الٰہی، ٣٦ ) ٥ - خلاصۂ حساب، چٹھا بہی، میزان، جوڑ۔ "ڈویژن کی تمام گاڑیوں کی نگہداشت اور ان کے اخراجات کے ماہانہ گوشوارے۔"    ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلات، ١٢٨ ) ٦ - کسی کاغذ کا خلاصہ یا اختصار، معلومات نیز اعداد و شمار کی فہرست یا جدول پٹی۔ "جب کبھی گوشوارہ مرتب ہوتا ہے تو عورت کو پوچھے بنا اس کے خانے میں "خانہ داری" کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے۔"    ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ٩٧ )

جنس: مذکر