گوہر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - موتی "اثر آبلہ سے جادۂ صحرائے جنوں چراغاں نظر آتا ہے، مصور شاعر نے ہر آبلے کو گوہر اور اس کے نقش کو روشنی کی لکیر بنا دیا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، مرزا غالب اور مغل جمالیات، ٥٠ ) ٢ - قیمتی پتھر جیسے یا قوت یا ہیرا وغیرہ۔  حکایت عجب ایک بھی بولتا گویا کان گوہر کی ہے کھولتا      ( ١٩٦٧ء، اردو کی قدیم داستانیں، ٢٥٦:١ ) ٣ - کسی شخص یا شے کی اصل، اصل نسل، مادہ، ماہیت، جوہر۔ "مرزا کے خاندان اور اصل و گوہر کا حال جیسا کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں جابجا ظاہر کیا ہے یہ ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ٩٠ ) ٦ - بندا، گوشوارہ۔  احمد نے دیا دختر کافر کو بھی زیور اور گوش سکینہ ہوئے زخمی پئے گوہر      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٧:١ ) ٨ - [ کنایہ ]  شبنم۔ "گوہر ایک جسم بخاری ہے کہ ہوا کے سرد ہونے سے پیدا ہوتی ہے یہ . زمین کے قریب معلق رہتے ہیں۔"      ( ١٨٥٦ء، فوائد الصبیان، ٨٥ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موتی "اثر آبلہ سے جادۂ صحرائے جنوں چراغاں نظر آتا ہے، مصور شاعر نے ہر آبلے کو گوہر اور اس کے نقش کو روشنی کی لکیر بنا دیا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، مرزا غالب اور مغل جمالیات، ٥٠ ) ٣ - کسی شخص یا شے کی اصل، اصل نسل، مادہ، ماہیت، جوہر۔ "مرزا کے خاندان اور اصل و گوہر کا حال جیسا کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں جابجا ظاہر کیا ہے یہ ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ٩٠ ) ٨ - [ کنایہ ]  شبنم۔ "گوہر ایک جسم بخاری ہے کہ ہوا کے سرد ہونے سے پیدا ہوتی ہے یہ . زمین کے قریب معلق رہتے ہیں۔"      ( ١٨٥٦ء، فوائد الصبیان، ٨٥ )

جنس: مذکر