گویائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نطق، گفتار، بول، چال، بات چیت، گفتگو۔ "اسے پڑھتے ہوئے ایک بے ساختہ گویائی کے شدید خلوص کا احساس ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چو، ٥٣ ) ٢ - بولنے کی طاقت، ناطقہ۔ "اس لیے نہیں کہ نحیف رنزار ہو اور گویائی سے محروم ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٠٠ ) ٣ - خوش گفتاری، خوش کلامی، شگفتہ۔ "ان کی شاعری کا معیار . تازہ نفس، بے دل گویائی کے لحاظ سے دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے ہم عصر شعرا میں اپنا جادو رکھتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چلو، ٩ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'گفتن' سے حاصل مصدر 'گویائی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نطق، گفتار، بول، چال، بات چیت، گفتگو۔ "اسے پڑھتے ہوئے ایک بے ساختہ گویائی کے شدید خلوص کا احساس ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چو، ٥٣ ) ٢ - بولنے کی طاقت، ناطقہ۔ "اس لیے نہیں کہ نحیف رنزار ہو اور گویائی سے محروم ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٠٠ ) ٣ - خوش گفتاری، خوش کلامی، شگفتہ۔ "ان کی شاعری کا معیار . تازہ نفس، بے دل گویائی کے لحاظ سے دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے ہم عصر شعرا میں اپنا جادو رکھتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چلو، ٩ )

اصل لفظ: گفتن
جنس: مؤنث