گٹھلی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پھل کا سخت بیج جیسے آم، آڑو، بیر، کجھور کا۔ "اسے جامن سمجھ کر مٹی کے کوزے میں ڈال کر زمین پر پھینکا گیا تو اپنی گٹھلی سے الگ ہو جائے گا۔"      ( ١٩٩٢ء، پتھر میری تلاش میں، ٩٠ ) ٢ - گرہ جو بدن کے کسی عضو میں پیدا ہو جاتی ہے، گلٹی، ابھرا ہوا غدود۔ "محترم بندہ . امراض مول لیتا ہے اس کو خدا بیٹا دیتا ہے لیکن ہونے والے کے بدن پر بدنما گٹھلیاں ہیں۔"    ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٣٧ ) ٤ - وہ گرہ (جو خمیر کرنے یا گوندھنے کے وقت) آٹے وغیرہ میں پڑ جاتی ہے۔ "کسٹرڈ پکاتے وقت چلاتے رہیں ورنہ گٹھلیاں پڑ جاتی ہیں۔"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلو پیڈیا، ٥٥٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'گانٹھ' کے 'محرف' 'گٹھ' کے ساتھ لی بطور لاحقۂ نسبت و تانیث لگانے سے 'گٹھلی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٦٩ء کو "آخر گشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھل کا سخت بیج جیسے آم، آڑو، بیر، کجھور کا۔ "اسے جامن سمجھ کر مٹی کے کوزے میں ڈال کر زمین پر پھینکا گیا تو اپنی گٹھلی سے الگ ہو جائے گا۔"      ( ١٩٩٢ء، پتھر میری تلاش میں، ٩٠ ) ٢ - گرہ جو بدن کے کسی عضو میں پیدا ہو جاتی ہے، گلٹی، ابھرا ہوا غدود۔ "محترم بندہ . امراض مول لیتا ہے اس کو خدا بیٹا دیتا ہے لیکن ہونے والے کے بدن پر بدنما گٹھلیاں ہیں۔"    ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٣٧ ) ٤ - وہ گرہ (جو خمیر کرنے یا گوندھنے کے وقت) آٹے وغیرہ میں پڑ جاتی ہے۔ "کسٹرڈ پکاتے وقت چلاتے رہیں ورنہ گٹھلیاں پڑ جاتی ہیں۔"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلو پیڈیا، ٥٥٣ )

اصل لفظ: گانٹھ
جنس: مؤنث