گپ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جھوٹی بات، افواہ۔ "آپ مجھے یا تو پاگل کہیں گے یا پھر میری اس بات کو گپ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کریں گے۔"    ( ١٩٨٦ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٩ اگست، viii ) ٢ - گفتگو، بات چیت۔ (جامع اللغات) ٣ - بکواس، بک بک، بے تکی بات نیز سر گزشت، داستان، افسانہ۔ "الاؤ کے گرد آدھی رات تک گپ ہوتی۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٩٩ ) ٤ - شیخی، ڈینگ، بڑ، مبالغہ آمیز گفتگو۔ "نادان آدمی بھی آزاد کی اس گپ کا یقین نہیں کر سکتا۔"      ( ١٩٤٤ء، یہ دلی ہے، ٤٠ ) ٥ - دل لگی کی بات، ہنسی مذاق کی بات۔ "ان سے بھی بہت محبت بھری ملاقاتیں ہوئی ہیں اور فون پر پنجابی میں لمبی لمبی گپ اکثر ہوتی ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٣٠ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے لیکن ایک امکان یہ ہے کہ فارسی کے لفظ گفت سے مورد ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٢ء کو "خرد افروز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جھوٹی بات، افواہ۔ "آپ مجھے یا تو پاگل کہیں گے یا پھر میری اس بات کو گپ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کریں گے۔"    ( ١٩٨٦ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٩ اگست، viii ) ٣ - بکواس، بک بک، بے تکی بات نیز سر گزشت، داستان، افسانہ۔ "الاؤ کے گرد آدھی رات تک گپ ہوتی۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٩٩ ) ٤ - شیخی، ڈینگ، بڑ، مبالغہ آمیز گفتگو۔ "نادان آدمی بھی آزاد کی اس گپ کا یقین نہیں کر سکتا۔"      ( ١٩٤٤ء، یہ دلی ہے، ٤٠ ) ٥ - دل لگی کی بات، ہنسی مذاق کی بات۔ "ان سے بھی بہت محبت بھری ملاقاتیں ہوئی ہیں اور فون پر پنجابی میں لمبی لمبی گپ اکثر ہوتی ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٣٠ )

جنس: مؤنث