گھاگ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بوڑھا، تجربہ کار، پرانا اور تجربہ کار، خرانٹ، کارآزمودہ، جہاندیدہ۔ "اورتو اور، جوش ایسے گھاگ شاعر کے وہاں بھی یہ کمزوری . محسوس ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ارمغان مجنون، ٢٣٦:٢ ) ٢ - سیانا، ہوشیار، چالاک۔ "گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا، ہزار پیشہ، جتنا گھاگ چالاک اور ہوش مند ہوتا اتنا ہی کم تھا، مگر یہ اتنا سیدھا سادا۔"      ( ١٩٧٩ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ٣٥٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'گرگ' سے ماخوذ 'گھاگ' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بوڑھا، تجربہ کار، پرانا اور تجربہ کار، خرانٹ، کارآزمودہ، جہاندیدہ۔ "اورتو اور، جوش ایسے گھاگ شاعر کے وہاں بھی یہ کمزوری . محسوس ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ارمغان مجنون، ٢٣٦:٢ ) ٢ - سیانا، ہوشیار، چالاک۔ "گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا، ہزار پیشہ، جتنا گھاگ چالاک اور ہوش مند ہوتا اتنا ہی کم تھا، مگر یہ اتنا سیدھا سادا۔"      ( ١٩٧٩ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ٣٥٠ )

اصل لفظ: گرگ