گھاگرا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لہنگا "چولستانی خواتین گھاگرے پر کسی ہوئی مختصر چولی پہنتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، چولستان، ٣١ ) ٢ - ایک پودے کا نام۔ (فرہنگ آصفیہ) ٣ - ہلکی نیلی رنگت اور سرخ آنکھ والا کبوتر جو کابلی کبوتر کی قسم کا ہوتا ہے۔  سیمابیے، اور گھاگھرے، تنبولیے پان لال کچھ اگرئی، اور سرمئی اور عنبری اور خالی      ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢، ٨٦:٢ ) ٤ - ایک دریا کا نام جسے سر جو بھی کہتے ہیں۔  گھاگرا کے پاس باڑا ہو اگر کوئی وسیع بیل رکشا کی نمائش کا وہاں ہو انصرام      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٣:٢٧٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'گھرگھر' سے ماخوذ 'گھاگرا' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لہنگا "چولستانی خواتین گھاگرے پر کسی ہوئی مختصر چولی پہنتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، چولستان، ٣١ )

اصل لفظ: گھرگھر
جنس: مذکر