گھبرانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - مضطرب ہونا، بدحواس ہونا، بوکھلانا، پریشان ہونا، ڈر جانا۔ "رینا خواہ مخواہ ہی گھبرانے لگی۔"      ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٧٠ ) ٢ - خفقان ہونا۔ (ماخوذ : فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات)۔ ٤ - اچاٹ ہونا، دل برداشتہ ہونا۔ "شاہی دربار میں اپنی نوکروں جیسی حیثیت سے گھبرا کر پشکن نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا۔"      ( ١٩٩٢ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٦٧ ) ١ - حواس باختہ کرنا، بوکھلا دینا، سراسیمہ کرنا، پریشان کرنا، ڈرا دینا۔  مجھ کو گھبرانے میں کچھ ان کو مزا آتا ہے ریل کا وقت نہیں ہے کہ رہا جاتا ہے      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١٩٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'گہور' سے ماخوذ 'گھبرانا' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل مستعمل ہے۔ ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مضطرب ہونا، بدحواس ہونا، بوکھلانا، پریشان ہونا، ڈر جانا۔ "رینا خواہ مخواہ ہی گھبرانے لگی۔"      ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٧٠ ) ٤ - اچاٹ ہونا، دل برداشتہ ہونا۔ "شاہی دربار میں اپنی نوکروں جیسی حیثیت سے گھبرا کر پشکن نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا۔"      ( ١٩٩٢ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٦٧ )

اصل لفظ: گہور