گھبراہٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بے اوسان یا حواس باختہ ہونے کی کیفیت، بدحواسی، بوکھلاہت، اضطراب، بیقراری، بے چینی۔ "ان کی گھبراہٹ کو کس طریقے سے دور کیا جا سکتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ، روایت اور فن، ٢٢ ) ٢ - خفقان، تپاک، قلب۔ (فرہنگ آصفیہ)

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'گھبرانا' سے مشتق حاصل مصدر 'گھبراہٹ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے اوسان یا حواس باختہ ہونے کی کیفیت، بدحواسی، بوکھلاہت، اضطراب، بیقراری، بے چینی۔ "ان کی گھبراہٹ کو کس طریقے سے دور کیا جا سکتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ، روایت اور فن، ٢٢ )

جنس: مؤنث