گھر
معنی
١ - کسی فرد یا خاندان کے رہنے کی جگہ، رہائش گاہ، جائے سکونت، مکان، مسکن، حویلی، کوٹھی، بنگلہ۔ "اسی طرح ہم اپنے گھروں کا کوڑا اپنے پڑوسی کے گھر کے سامنے ڈال دیتے ہیں۔" ( ١٩٩٣ء، جنگ، کراچی، ٢٣ فروری، ٣ ) ٢ - خانہ داری، اثاث البیۃ، سامان، خانہ داری، گرہست پن۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات) ٣ - ٹھور، ٹھکانا، جگہ، اڈا، مرکز۔ "شخصی سلطنتیں سازش کا گھر ہوتیں ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٣٤٢ ) ٥ - گھونسلا، آشیانہ، پرندوں کے بسیرا کرنے کی جگہ۔ "اور درخت کی گھنی شاخوں میں بئے کے چونچ لٹک رہے ہیں . بئے کے گھونسلے ان کے گھر۔" ( ١٩٨٧ء، سارے فسانے، ١٣ ) ٧ - امن کی جگہ، جائے پناہ، آرام و راحت سے بسر کرنے کا مقام۔ "گھر : چوسر کے کالموں کا خانہ جس کا شمار فی کالم ٨ ہوتا ہے۔" ( ١٩٢٩ء، اصطلاحات پیشہ وراں، منیر، ٥٠ ) ٨ - جائے پیدائش، دیس، وطن۔ "محسن کی غزل میں گھر کی علامت اکثر وطن کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، فنون، لاہور، ستمبر، اکتوبر، ١٠٠ ) ٩ - گھر کے تمام افراد، اہل خانہ، گھر کا گھر، پورا گھر، خاندان، کنبہ۔ "کہتے ہیں اس گلی میں انہیں صرف ہمارا گھر شریف نظر آیا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، سارے فسانے، ٣٣١ ) ١٠ - [ کنایۃ ] اپنے لوگ، عزیز و اقارب۔ "غیر جگہ شادی کرنا ہمارے کنبے میں نہیں پھلتا ہم گھر ہی میں شادی کریں گے۔" ( ١٨٩٣ء، پی کہاں، ٣١ ) ١١ - گنجائش، سمائی۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات) ١٢ - غار، گڑھا، قعر، گہرائی۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات) ١٣ - چوسر، پچیسی یا لوڈو میں بنے ہوئے چار خانوں کے درمیان کا بڑا خانہ جس میں گوٹ جانے سے گوٹ پکی ہو جاتی ہے اس کو چاروں رنگوں کا گھر کہتے ہیں۔ "درمیان میں ایک بڑا سا مشترک خانہ ہوتا ہے جس کو چاروں رنگوں کا گھر کہتے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤١٥ ) ١٤ - [ ہیت ] کسی سیارے کا دائرہ گردش جسے اس کا مقام، گھر یا منزل کہتے ہیں، برج۔ زیر آبرو ہے ترا دیدۂ روشن ایسا مشتری جیسے کہ ہو قوس کے گھر کا تارا ( ١٨٧٥ء، شہید دہلوی، دیوان، ٣٤ ) ١٥ - نگینے کا گھاٹ، وہ جگہ جہاں نگینہ جڑا ہوتا ہے۔ بھرا تیری بخشش نے اے نامور جواہر سے انگشتری کا بھی گھر حو١٨٢ء، راسخ (شیخ غلام علی)، کلیات، ١٣ ١٦ - ایسا سوراخ جو آر پار نہ ہو، کم گہرا سوراخ یا چھید۔ "بشکل نمبر ٨٩،٨ یہ برما پھل ہیں، ان میں سے گول پھل موٹے سوراخ ڈالنے اور گھر بنانے کے کام آتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، انجینری کالج کے عملی چالیس سبق، ٤٥ ) ١٧ - اون یا تاگے کی بنائی میں وہ پھندنے جو بننے میں سلائی پر ڈالے جاتے ہیں، سوئٹر۔ "اس لڑکی نے سویٹر کے گھر گن کر کہا، آپ کو سردی لگتی ہو تو میری شال اوڑھ لیجیے۔" ( ١٩٨٣ء، اجلے پھول، ٨٨ ) ١٨ - وہ خانے جو تعویذ کے نقش میں بناتے ہیں۔ نقش ہستی کو ذرا دیکھ کے بھرنا غافل سب غلط ہو گا یہ تعویذ جو اک گھر بہکا ( ١٨٤٣ء، دیوان رند، ٢٥٣:٢ ) ١٩ - مقام سر، راگ کا نام، خوش الحان پرند کی آواز، بلبل کی نغمہ سنجی پر بھی گھر کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات، مہذب اللغات) ٢٠ - کسی چیز کے رکھنے کا خانہ : جیسے میان، نیام، غلاف۔ (فرہنگ آصفیہ، علمی اردو لغت)۔ ٢١ - عینک رکھنے کا خانہ، خول، کیس۔ مثل عینک مجھے غربت ہے وطن سے بہتر پائی آنکھوں پہ جگہ میں نے اگر گھر نہ ہوا ( ١٨٩٢ء، شعور(مہذب اللغات) ) ٢٢ - تیکنیک، انداز، طریقہ۔ "اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ "یہ چار بپتہ میں میں نے ایک نئے "گھر" میں کہا ہے" اس سے شاعر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی تکنیک یا فارم بالکل نئی ہے۔" ( ١٩٧٨ء، چار بپتہ، ٨ ) ٢٣ - [ بازاری ] کون، مقصد۔ "کنایہ ہے مقصد سے۔" ( ١٩٢٩ء، اصطلاحات پیشہ وراں، منیر، ١٣ ) ٢٤ - [ مجازا ] قبر، گور، ابدی آرام گاہ۔ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ٢٦٦ ) ٢٥ - آقا، مالک۔ گھر دھنی و وچہ جس کوں گھر ہے خوب ووچہ صاحب جسے نفر ہے خوب ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٣٩ ) ٢٦ - خاوند، بر، دولھا۔ (ماخوذ : فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات) ٢٧ - مخزن، منبع، سرچشمہ، بنیاد، وجہ، علامت، گودام۔ "بیر وغیرہ نہ کھایا کرو یہ کھانسی کا گھر ہے جس طرح مکھیاں بیماری کا گھر ہیں۔" ( ١٩٧٧ء، مہذب اللغات، ٤٨١:١٠ ) ٢٨ - دراز، الماری یا میز کا خانہ۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات) ٢٩ - گرہ، جیب، ڈب۔ (جامع اللغات : فرہنگ آصفیہ)
اشتقاق
اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی فرد یا خاندان کے رہنے کی جگہ، رہائش گاہ، جائے سکونت، مکان، مسکن، حویلی، کوٹھی، بنگلہ۔ "اسی طرح ہم اپنے گھروں کا کوڑا اپنے پڑوسی کے گھر کے سامنے ڈال دیتے ہیں۔" ( ١٩٩٣ء، جنگ، کراچی، ٢٣ فروری، ٣ ) ٣ - ٹھور، ٹھکانا، جگہ، اڈا، مرکز۔ "شخصی سلطنتیں سازش کا گھر ہوتیں ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٣٤٢ ) ٥ - گھونسلا، آشیانہ، پرندوں کے بسیرا کرنے کی جگہ۔ "اور درخت کی گھنی شاخوں میں بئے کے چونچ لٹک رہے ہیں . بئے کے گھونسلے ان کے گھر۔" ( ١٩٨٧ء، سارے فسانے، ١٣ ) ٧ - امن کی جگہ، جائے پناہ، آرام و راحت سے بسر کرنے کا مقام۔ "گھر : چوسر کے کالموں کا خانہ جس کا شمار فی کالم ٨ ہوتا ہے۔" ( ١٩٢٩ء، اصطلاحات پیشہ وراں، منیر، ٥٠ ) ٨ - جائے پیدائش، دیس، وطن۔ "محسن کی غزل میں گھر کی علامت اکثر وطن کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، فنون، لاہور، ستمبر، اکتوبر، ١٠٠ ) ٩ - گھر کے تمام افراد، اہل خانہ، گھر کا گھر، پورا گھر، خاندان، کنبہ۔ "کہتے ہیں اس گلی میں انہیں صرف ہمارا گھر شریف نظر آیا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، سارے فسانے، ٣٣١ ) ١٠ - [ کنایۃ ] اپنے لوگ، عزیز و اقارب۔ "غیر جگہ شادی کرنا ہمارے کنبے میں نہیں پھلتا ہم گھر ہی میں شادی کریں گے۔" ( ١٨٩٣ء، پی کہاں، ٣١ ) ١٣ - چوسر، پچیسی یا لوڈو میں بنے ہوئے چار خانوں کے درمیان کا بڑا خانہ جس میں گوٹ جانے سے گوٹ پکی ہو جاتی ہے اس کو چاروں رنگوں کا گھر کہتے ہیں۔ "درمیان میں ایک بڑا سا مشترک خانہ ہوتا ہے جس کو چاروں رنگوں کا گھر کہتے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤١٥ ) ١٦ - ایسا سوراخ جو آر پار نہ ہو، کم گہرا سوراخ یا چھید۔ "بشکل نمبر ٨٩،٨ یہ برما پھل ہیں، ان میں سے گول پھل موٹے سوراخ ڈالنے اور گھر بنانے کے کام آتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، انجینری کالج کے عملی چالیس سبق، ٤٥ ) ١٧ - اون یا تاگے کی بنائی میں وہ پھندنے جو بننے میں سلائی پر ڈالے جاتے ہیں، سوئٹر۔ "اس لڑکی نے سویٹر کے گھر گن کر کہا، آپ کو سردی لگتی ہو تو میری شال اوڑھ لیجیے۔" ( ١٩٨٣ء، اجلے پھول، ٨٨ ) ٢٢ - تیکنیک، انداز، طریقہ۔ "اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ "یہ چار بپتہ میں میں نے ایک نئے "گھر" میں کہا ہے" اس سے شاعر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی تکنیک یا فارم بالکل نئی ہے۔" ( ١٩٧٨ء، چار بپتہ، ٨ ) ٢٣ - [ بازاری ] کون، مقصد۔ "کنایہ ہے مقصد سے۔" ( ١٩٢٩ء، اصطلاحات پیشہ وراں، منیر، ١٣ ) ٢٧ - مخزن، منبع، سرچشمہ، بنیاد، وجہ، علامت، گودام۔ "بیر وغیرہ نہ کھایا کرو یہ کھانسی کا گھر ہے جس طرح مکھیاں بیماری کا گھر ہیں۔" ( ١٩٧٧ء، مہذب اللغات، ٤٨١:١٠ )