گھنگرو

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ "سب سے پہلے تو میں نے یہ کام کیا کہ اپنے پاؤں سے گھنگرو اتار کر پھینکے، یہ کم بخت میری آمد کا اعلان کرتے جاتے تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، غالب رائل پارک میں، ١٦٥ ) ٢ - وہ آواز جو نزع میں دم اٹکنے سے نکلتی ہے، گھرا، بلغم جمع ہو جانے سے تنفس میں پیدا ہونے والی آواز۔ "ہوائی گزرگاہوں میں مخاط کے اجتماع سے تنفس کی وہ شکل پیدا ہو جاتی ہے جسے گھنگرو کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٧ء، طب قانونی اور سمومیات، ٥٣ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ "سب سے پہلے تو میں نے یہ کام کیا کہ اپنے پاؤں سے گھنگرو اتار کر پھینکے، یہ کم بخت میری آمد کا اعلان کرتے جاتے تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، غالب رائل پارک میں، ١٦٥ ) ٢ - وہ آواز جو نزع میں دم اٹکنے سے نکلتی ہے، گھرا، بلغم جمع ہو جانے سے تنفس میں پیدا ہونے والی آواز۔ "ہوائی گزرگاہوں میں مخاط کے اجتماع سے تنفس کی وہ شکل پیدا ہو جاتی ہے جسے گھنگرو کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٧ء، طب قانونی اور سمومیات، ٥٣ )

جنس: مذکر