گیان

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل، فہم، فراست، سمجھ، دانائی، زیر کی۔ "محض صداقت سے واقف ہونا چاہتے ہیں وہ گیان مارگ (راہ عقل) میں داخل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٦٣٢:١ ) ٢ - علم، واقفیت، دانش۔ "روح اور اس کا فلسفہ کیا تھا ان میں گیان اور علم اور جان کاری پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٣ ) ٣ - تیقن، خیال پاکیزہ، یقین۔ "اس وقت پتہ نہیں کیوں میرے اندر ایک گہرا گیان پیدا ہوا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٥٣ ) ٤ - معرفت الٰہی، کشف یا معرفت، علم و عرفان۔ "ارے یہ درخت تو وہ آکاش ہے جس کے نیچے نیچے مہاتماؤں کوگیان حاصل ہوا۔"      ( ١٩٩٠ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦١ ) ٥ - قوت، باطنی جیسے: اندری گیان، سرت گیان وغیرہ۔  جلوت کدہ مایا کا ہے یہ ہستی موہوم اگیان میں موجود ہے اور گیان میں معدوم      ( ١٩٢٥ء، مطلع انوار، ١٦٠ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل، فہم، فراست، سمجھ، دانائی، زیر کی۔ "محض صداقت سے واقف ہونا چاہتے ہیں وہ گیان مارگ (راہ عقل) میں داخل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٦٣٢:١ ) ٢ - علم، واقفیت، دانش۔ "روح اور اس کا فلسفہ کیا تھا ان میں گیان اور علم اور جان کاری پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٣ ) ٣ - تیقن، خیال پاکیزہ، یقین۔ "اس وقت پتہ نہیں کیوں میرے اندر ایک گہرا گیان پیدا ہوا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٥٣ ) ٤ - معرفت الٰہی، کشف یا معرفت، علم و عرفان۔ "ارے یہ درخت تو وہ آکاش ہے جس کے نیچے نیچے مہاتماؤں کوگیان حاصل ہوا۔"      ( ١٩٩٠ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦١ )

جنس: مذکر