گیلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس میں نمی یا تری ہو، بھیگنے کے بعد جو ابھی خشک نہ ہوا ہو، نم، تر، بھیگا ہوا۔ "اس میں گیلا چمچہ نہ ڈالیں۔"      ( ١٩٨٥ء، سعدیہ کا دسترخوان، ١٤٥ ) ٢ - (فحش بازاری) وہ (لڑکا) جو جلدی بدفعلی پر راضی ہو جائے، جسے بدفعلی کرانے کا شوق ہو۔ (مہذب اللغات)۔

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس میں نمی یا تری ہو، بھیگنے کے بعد جو ابھی خشک نہ ہوا ہو، نم، تر، بھیگا ہوا۔ "اس میں گیلا چمچہ نہ ڈالیں۔"      ( ١٩٨٥ء، سعدیہ کا دسترخوان، ١٤٥ )

جنس: مذکر