گیند

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - چمڑے، کپڑے یا ربڑ وغیرہ کا وہ گولہ جس سے بچے کھیلتے ہیں اور ہاکی، کرکٹ یا ٹینس وغیرہ کے کھیل میں مختلف جسامت کا استعمال ہوتا ہے، گوئے۔ "اس کے پاس گالف کھیلنے کی کچھ گیندیں تھیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٤٨ ) ٢ - گیندے کا پھول، زرد رنگ کا پھول۔  گیند نے اپنا بنایا رنگ زرد سن رہی تھی زعفران آ اوس کا درد      ( ١٨٣٩ء، مثنوی خزانیہ، ٥ ) ٣ - روشنی کا گولا (جو اکثر میدان جنگ میں پھینکا جاتا تھا)۔  غیروں سے تم نے پیچ لڑائے پتنگ کے شعلے ہماری آہوں کے ہیں گیند جنگ کے    ( ١٨٩٢ء، شعور (نوراللغات) )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٥ء کو "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چمڑے، کپڑے یا ربڑ وغیرہ کا وہ گولہ جس سے بچے کھیلتے ہیں اور ہاکی، کرکٹ یا ٹینس وغیرہ کے کھیل میں مختلف جسامت کا استعمال ہوتا ہے، گوئے۔ "اس کے پاس گالف کھیلنے کی کچھ گیندیں تھیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٤٨ )