۶) عملی ہدایات اور مظاہر طبیعی کے بارے میں متضاد طرزِ عمل

قرآن حکیم میں سائنسی علوم کے جو حوالہ جات آتے ہیں اور اس میں جو عملی ہدایات ملتی ہیں‘ ان کے ضمن میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایک اعتبار سے ہمیں آگے سے آگے بڑھنا ہے اور دوسرے اعتبار سے ہمیں پیچھے سے پیچھے جانا ہے.چنانچہ قرآن حکیم پر غور و فکر کرنے والے کا انداز (attitude) دو اعتبارات سے بالکل متضاد ہونا چاہیے.سائنسی حوالہ جات جو قرآن میں آئے ہیں ان کی تعبیر کرنے میں آگے سے آگے جائیے. آج انسان کو کیا معلومات حاصل ہو چکی ہیں‘ کون سے حقائق پایۂ ثبوت کو پہنچ چکے ہیں‘ ان کے حوالے پیش نظر رہیں گے. اس میں پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے. امام رازی اور دیگر قدیم مفسرین کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے. بلکہ اس ضمن میں نبی اکرم نے بھی کچھ فرمایا ہے تو وہ بھی ہمارے لیے لازم نہیں ہے. اس لیے کہ حضور سائنس اور ٹیکنالوجی سکھانے نہیں آئے تھے. تأبیر نخل کا واقعہ پیچھے گزر چکا ہے‘ اس کے ضمن میں آپ نے فرمایا تھا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ ’’اپنے دنیاوی معاملات کے بارے میں تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو‘‘. تجرباتی علوم کے مطابق جو تمہیں علم حاصل ہے اس پر عمل کرو .لیکن دین کا جو عملی پہلو ہے اس میں پیچھے سے پیچھے جائیے. یہاں یہ دلیل نہیں چلے گی کہ جدید دَور کے تقاضے کچھ اور ہیں ‘ جبکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ رسول اللہ نے اور آپؐ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا کیا. اس حوالے سے قرآن کے طالب علم کا رُخ پیچھے کی طرف ہونا چاہیے کہ اسلاف نے کیا سمجھا. متأخرین کو چھوڑ کر متقدمین کی طرف جایئے. متقدمین سے تبع تابعین‘ پھر تابعین سے ہوتے ہوئے ’’مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ ‘‘ یعنی حضور  اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل تک پہنچئے. اس اعتبار سے اقبال کا یہ شعر صحیح منطبق ہوتا ہے ؎

بمصطفیٰ ؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باُو نرسیدی تمام بولہبی ست!

دین کا عملی پہلو وہی ہے جو اللہ کے رسول سے ثابت ہے. اس میں اگرچہ 
روایات کے اختلاف کی وجہ سے کچھ فرق ہو جائے گا مگر دلیل یہی رہے گی : صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ ’’نماز اِس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘. اب نماز کی جزئیات کے بارے میں روایات میں کچھ فرق ملتا ہے. کسی کے نزدیک ایک روایت قابل ترجیح ہے‘ کسی کے نزدیک دوسری. اس اعتبار سے جزئیات میں تھوڑا بہت فرق ہو جائے تو کوئی حرج نہیں.البتہ دلیل یہی رہے گی کہ رسول اللہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل یہ تھا. حضور اکرم کا یہ فرمان بھی نوٹ کر لیجیے : عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ ’’تم پر میری سنت اختیار کرنا لازم ہے اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنت جو ہدایت یافتہ ہیں‘‘. چنانچہ حضور کا عمل اور خلفاء راشدین کا عمل ہمارے لیے لائق تقلید ہے. پھر اسی سے متصل وہ چیزیں ہیں جن پر ہماری چودہ سو برس کی تاریخ میں اُمت کا اجماع رہا ہے. اب دنیا اسلامی سزاؤ ں کو وحشیانہ قرار دے کر ہم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمیں بنیاد پرست (Fundamentalist) کی گالی دے کر چاہتی ہے کہ ہمارے اندر معذرت خواہانہ رویہ پیدا کر دے ‘مگر ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ان باتوں سے قطعاً متاثر ہوئے بغیر دین کے عملی پہلو کے بارے میں پیچھے سے پیچھے جاتے ہوئے مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ تک پہنچ جائیں!

بدقسمتی سے ہمارے عام علماء کا حال یہ ہے کہ انہوں نے عربی علوم تو پڑھے ہیں‘ عربی مدارس سے فارغ التحصیل ہیں ‘مگر وہ آگے بڑھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں. انہوں نے سائنس نہیں پڑھی‘ وہ جدید علوم سے واقف نہیں ‘وہ نہیں جانتے آئن سٹائن کس بلا کا نام ہے اور اس شخص کے ذریعے طبیعیات کے اندر کتنی بڑی تبدیلی آ گئی ہے. نیوٹونین ایرا کیا تھااور آئن سٹائن کا دَور کیا ہے‘ انہیں کیا پتہ! آج کائنات کا تصور کیا ہے‘ ایٹم کی ساخت کیا ہے‘ انہیں کیا معلوم! ایٹم تو پرانی بات ہو گئی‘اب تو انسان نیوٹرون پروٹون سے بھی کہیں آگے کی باریکیوں تک پہنچ چکا ہے. اب ان چیزوں کو نہیں جانیں گے تو ان حقائق کو صحیح طور پرسمجھنا ممکن نہیں ہو گا. مظاہر طبیعی کا معاملہ تو آگے سے آگے جا رہا ہے. اس کی تعبیر جدید سے جدید ہونی چاہیے .البتہ اس ضمن میں یہ فرق ضرور ملحوظ رہنا چاہیے کہ ایک تو سائنس کے میدان کے محض نظریات (theories) ہیں جنہیں مسلّمہ حقائق کا درجہ حاصل نہیں ہے‘ جبکہ ایک وہ چیزیں ہیں جن کی تجرباتی توثیق ہو چکی ہے اور انہیں اب مسلّمہ حقائق کا درجہ حاصل ہے. ان دونوں میں فرق کرنا ہو گا. خواہ مخواہ کوئی بھی نظریہ سامنے آ جائے یا کوئی مفروضہ (hypothesis) منظر عام پر آجائے اس پر قرآن کو منطبق کرنے کی کوشش کرنا سعی لاحاصل بلکہ مضر شے ہے. لیکن اصولی طور پر ہمیں ان چیزوں کی تعبیر میں آگے سے آگے بڑھنا ہے. اور جہاں تک دین کے عملی حصے کا تعلق ہے جسے ہم شریعت کہتے ہیں‘ یعنی اوامر و نواہی‘حلال و حرام‘ حدود و تعزیرات وغیرہ ‘ان تمام معاملات میں ہمیں پیچھے سے پیچھے جانا ہو گا‘ یہاں تک کہ محمدٌ رسول اللہ کے قدموں میں اپنے آپ کو پہنچا دیجیے. اس لیے کہ دین اسی کا نام ہے.

؏ بمصطفیٰ ؐ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست