یہ ملامت مخالفانہ بھی ہوتی ہے اور ناصحانہ بھی. لوگ ہمدرد بن کر کہتے ہیں: میاں اپنے کیریئر کی فکر کرو، کچھ تو اپنے مستقبل کا خیال کرو، اپنی اولاد کے متعلق سوچو، بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں… تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ پاگل اور دیوانے ہو گئے ہو؟ کہ بس ایک دُھن تم پر سوار ہو گئی ہے، کچھ تو سوچو اور اپنے مستقبل کی فکر کرو. یہ ناصحانہ انداز کی مخالفت ہے. دوسری مخالفانہ اندا زکی ملامت ہوتی ہے: شیخ چلی کے خواب دیکھ رہے ہو! صدیوں سے جمے جمائے نظام کو بدلنے کے لئے کھڑے ہو رہے ہو؟ ہم نے اپنے آباء و اجداد سے جو نظام ورثہ میں پایا ہے اس کی مخالفت کر رہے ہو. کیا ہمارے اَسلاف نادان تھے جو اس نظام کو قائم کر گئے اور کیا ہمارے موجودہ عمائدین و قائدین بیوقوف ہیں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں؟

پھر ان کی سیادت وقیادت ہے، ان کا اثر و رسوخ ہے، ان کے ہاتھ میں قوت و طاقت ہے، ان کے مالی و معاشی مفادات اس نظام سے وابستہ ہیں. تم مٹھی بھر سر پھرے کیا تیر مار لو گے؟… ان دونوں ملامتوں سے کوئی اثر لئے بغیر اپنی توانائیاں، اپنی قوتیں، اپنی صلاحیتیں اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لئے لگانا، یہ ہے چوتھا وصف. جو لوگ یہ چاروں اوصاف اپنے اندر پیدا کر لیں گے ان کو اللہ نے ’’حِزۡبَ اللّٰہِ ‘‘ کہا ہے فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَجن لوگوں کے اندر یہ بیان کردہ اوصاف پیدا ہو جائیں وہ لوگ حزب بن جائیں گے، یہ وہ پارٹی بن جائیں گے جن کی محبتیں بھی اپنے ہی دائرہ میں ہوں گی. وہ اللہ سے، اُس (تعالیٰ) کے رسول سے اور اہل ایمان سے محبت کریں گے. اور جن سے ان کی مُخاصمت (۱اور مخالفت ہوگی، مجاہدہ اور مجادلہ و مقاتلہ ہو گا وہ بھی صرف اور صرف اللہ اس کے رسول  اور دین حق کی سربلندی کے لئے ہوگا. کوئی ذاتی غرض، کوئی ذاتی عداوت، کوئی ذاتی دشمنی، اس دنیا کا کوئی ذاتی مفاد ان کے پیش نظر نہیں ہوگا.

ایسے لوگوں کے لئے پہلی نوید ہے 
ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ہے. یعنی جن لوگوں میں مطلوبہ اوصاف پیدا ہو جائیں تو ’’یہ ان پر اللہ کا فضل ہے، وہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘. انسان کی اس سے بڑی سعادت اور کون سی ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کے لئے جبکہ وہ غالب نہ ہو بلکہ سرنگوں ہو، خود جادۂ حق پر ثابت قدم رہ کر، اس راہ کی مشکلات و مَوَانع (۲کا مواجہہ (۳کر کے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے اپنا تن من دھن لگاتا ہے.

وہ نوع انسانی کو آخرت کے عذاب اور اللہ کے دین سے روگردانی کے باعث دنیا میں پیدا ہونے والی افراتفری اور فتنہ و فساد سے بچانے کے لئے اپنی توانائیاں، صلاحیتیں اور وسائل لگاتا ہے. اسے یہ توفیق بھی اللہ کے فضل سے ملتی ہے اور اللہ کا فضل غیر محدود ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ اس کے فضل کا اہل اور مستحق کون سابندہ ہے. دوسری بشارت یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ ہے فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ اللہ کا اس حزب اللہ سے وعدہ ہے کہ وہ غالب ہو کر رہے گی… یہی بشارت اور یہی وعدہ سورۂ آل عمران میں بایں الفاظ فرمایا گیا وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ ’’اور نہ سُست ہو نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب آ ؤ گے اگر تم ایمان رکھتے ہو‘‘. سربلندی اور غلبہ کا وعدہ یہاں مشروط ہے حقیقی ایمان اور قلبی یقین سے، جس کا عملی مظہر ہے اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد… جیسا کہ سورۃ الحجرات میں حقیقی ایمان کی تعریف میں فرمایا: (۱) دشمنی، مخالفت (۲) مانع کی جمع (۳) روبرو ہونا، مقابل ہونا اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ 

’’مؤمنین تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول  پر، پھر شک میں نہ پڑے اور جنھوں نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، اور ایسے لوگ ہی اپنے دعویٰ ٔ ایمان میں سچے ہیں‘‘.

ایسے مؤمنین صادقین، ایسے سرفروشوں اور جاں نثاروں کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے غلبہ اور سربلندی کا. اور اللہ سے زیادہ اپنے وعدے کو وفا کرنے والا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا. حزب اللہ کو جو تربیت درکار ہے اس کا ہدف مجاہدانہ کردار اور تعلق مع اللہ پیدا کرنا ہے. اور جب تک ان کے اندر یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوں گی اسلامی انقلاب نہیں آ سکتا.