مسلح تصادم کےاعتبارسےدورِنبویﷺ اورموجودہ حالات میں دواہم فرق

- مسلح بغاوت کی شرعی حیثیت تمدنی ارتقاءسےپیداشدہ دواہم تبدیلیاں اقدام اور
- مسلح تصادم کامتبادل

نَھِی عَنِ الْمُنْکَربِالْیَدْ 

قرآن حکیم کی اصولی رہنمائی
احادیث نبویہ کی تفصیلی وضاحت
خلاصۂ مباحث اورتین ممکنہ نتائج


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم 
خطبہ مسنونہ، تلاوتِ آیاتِ قرآنی، احادیث نبوی اور ادعیہ ماثورہ کے بعد:
گزشتہ دس خطابات میں مَیں اپنی سی امکانی کوشش کر چکا ہوں کہ سیرتِ مطہرہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا ایک مطالعہ اور ایک جائزہ اس انداز میں آپ کے سامنے رکھ دوں کہ اسلامی انقلاب کے مراحل اور مدارج نکھر کر سامنے آجائیں. 

اب ہمیں گہرے غور وفکر اور نہایت احتیاط کے ساتھ یہ دیکھنا ہو گا کہ محمد رسول اللہ  کی انقلابی جدوجہد کے کن کن مراحل اور امور کو ہمیں جوں کا توں لینا ہو گا اور وہ کون سے مراحل ہیں کہ جن کے بارے میں حضور  کی سیرتِ مبارکہ کو من حیث المجموع 
(۱سامنے رکھ کر ہمیں موجودہ حالات کے پیش نظر استنباط (۲کرنا ہو گا اور اس معاملے میں ہمیں کس حد تک اجتہاد کرنا ہو گا. اس مسئلہ پر گفتگو سے قبل پہلے ہمیں اس فرق کو سمجھنا ہو گا جو دو اعتبار ات سے دور نبوی  اور آج کے حالات میں واقع ہو ا ہے. 

مسلح تصادم کے اعتبار سے دورِ نبوی اور موجودہ حالات میں دو اہم فرق

پہلا فرق

دورِ نبوی اور موجودہ حالات میں پہلا واضح ترین اور نمایاں ترین فرق تو یہ واقع ہوا ہے کہ نبی اکرم کی بعثت مبارکہ ایک خالص کافرانہ ومشرکانہ معاشرے میں ہوئی تھی، جب کہ ہمارا تعلق ایک مسلمان معاشرہ سے ہے اور ہمیں اس میں کام کرنا ہے. ہمارے ملک ہی کی طرح دوسرے بہت سے مسلم ممالک ہیں جن میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد اسّی فیصد سے زائد ہے اور ان تمام ممالک کے سربراہ اور حکمران بھی مسلمان ہی ہیں. رعایا اورحکمرانوں کے کردار، ان کے اخلاق، ان کی سیرت اور دین سے ان کے عملی تعلق کے معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ یہ سب (۱) مجموعی حیثیت سے (۲) نتیجہ نکالنا کے سب قانوناً مسلمان ہیں.

صورتِ واقعہ یہ ہے کہ اگرچہ کہیں بھی مکمل اسلامی نظام اپنی آئیڈیل صورت میں عملاً قائم ونافذ نہ ہو بلکہ پورے کا پورا لادینی (Secular) نظام رائج ہو تب بھی وہ مسلمان معاشرہ کہلائے گا اور اس کے حکمران مسلمان ہی تسلیم کئے جائیں گے. پھر حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے ان معاشروں میں کردار کے اعتبار سے ہر طرح کے طبقات موجود ہیں. شرابی، زانی، قمار باز اور کئی اعتبارات سے صرف اسلامی اخلاق وکردار ہی سے نہیں عام انسانی سیرت وکردار سے تہی دست افراد بھی موجود ہیں اور اسلامی نظام کے عملاً نافذ نہ ہونے کے باوجود انہی معاشروں میں کچھ نہ کچھ ایسے مسلمان بھی لازماً موجود ہوں گے جو نمازی، روزے دار، اسلامی شعائر کی پاس داری کرنے والے اور انفرادی سطح پر صالح اور متقی مسلمان ہوں. بہرحال عملاً یہ تمام لوگ قانوناً مسلمان ہیں اور انہیں کلمہ کی ڈھال حاصل ہے. لہذا ان حالات میں جن میں نبی اکرم  نے توحید کی انقلابی دعوت پیش کی اور اس صورت حال میں جس سے ہمارا سابقہ ہے، ایک نہایت نمایاں فرق موجود ہے. نبی اکرم  کا جس معاشرے سے مقابلہ تھا، وہ فکری وعملی دونوں اعتبارات سے خالص مشرکانہ اور کافرانہ معاشرہ تھا اور ان کا پورا نظام شرک کی بنیادوں پر استوار اور قائم تھا. کچھ سعید روحیں ضرور موجود تھیں جو فکری طور پر موحد اور عملی طور پر بُت پرستی کی نجاست کی آلودگی سے محفوظ تھیں. لیکن غالب اکثریت مشرکین ہی کی تھی. چنانچہ پہلا اور بنیادی فرق جس کو سامنے رکھ کر ہمیں سوچنا ہو گا یہ ہے کہ آیا ہم نبی اکرم کا پورا منہج انقلاب جوں کا توں اور بعینہٖ اختیار کریں گے یا اس میں کوئی فرق وتفاوت ہو گا!

دوسرا فرق

دوسری اہم بات یہ ہے کہ نوعِ انسانی کا جو تمدنی ارتقا ہوا ہے اس کے اعتبار سے اب کسی بھی ملک میں جو حکومت ہوتی ہے اس کے پاس تمام وسائل اور پوری قوت موجود ہوتی ہے، جب کہ عوام اب بالکل نہتے ہو گئے ہیں. چنانچہ حکومت اور عوام کے مابین فرق وتفاوت اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ وہ جو مسلح تصادم (Armed Conflict) والا مرحلہ ہے، یعنی پہلے سے قائم شدہ باطل نظام سے مسلح تصادم کا معاملہ وہ نظری اور عملی دونوں اعتبارات سے قریباً ناممکن ہو چکا ہے. یہ دونوں تبدیلیاں ایسی بنیادی ہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر ہمیں معروضی طور پر غور کرنا ہے کہ اگر ہم اسلامی انقلاب برپا کرنے کا تہیہ اور عزم کرتے ہیں تو ان تمام مراحل میں جن سے نبی اکرم کی جدوجہد اور سعی وکوشش گزری آیا ہمیں بعینہٖ وہی طریقہ اختیار کرنا ہو گا جو ہمیں سیرتِ مطہرہ میں ملتا ہے یا یہ کہ ان اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر مرحلہ پر ہم یہ دیکھیں کہ کس کس پہلو سے ہمارا لائحہ عمل مختلف ہو گا.

زیر بحث موضوع کی وضاحت سے پہلے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس صورت حال کو ایک مفروضہ کی حیثیت سے سامنے رکھیں اور سردست اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ اس وقت پیشِ نظر پاکستان کی حکومت اور اس کا معاشرہ ہے. ورنہ اس مسئلہ میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں.