تمدنی ارتقاء سے پیدا شدہ دو اہم تبدیلیاں

تمدنی ارتقاء نے یہ شکل پیدا کی ہے کہ حکومت کے پاس قوت اور طاقت بے انتہا ہوتی ہے. فوج اس کی پشت پناہ ہوتی ہے. اس موقع پر یہ بات بھی پیشِ نظر رکھئے کہ بات پاکستان کی نہیں ہو رہی بلکہ علمی اور اصولی نقطہ نظر سے ہو رہی ہے. آخر یہ مسئلہ شام میں بھی تو درپیش ہے، جہاں الاخوان المسلمون نے اسلام کے لئے سردھڑ کی بازی لگا رکھی ہے، لیکن مقابلہ کس سے ہے؟ حافظ الاسد کی حکومت سے، جس کے پاس جدید ترین اسلحہ سے لیس فوج موجود ہے، جس کے پاس ہر طرح کے ذرائع ووسائل موجود ہیں اور جس کی پشت پر روس جیسی سپر پاور موجود ہے.

لہذا الاخوان المسلمون کچلے جا رہے ہیں اور ان کی مسلح جدوجہد دم توڑ چکی ہے. پھر سوچئے کہ اسی طرح کا مسئلہ افغانستان میں ہو رہا ہے یا نہیں؟ (۲کارمل بظاہر مسلمان ہے. آج تک تو نہیں سنا گیا کہ اس کی تکفیر کی گئی ہو. اس (۱) تحقیقات (۲) واضح رہے کہ یہ خطاب دسمبر ۱۹۸۴ء کا ہے. کے ساتھ جو افغانی فوج ہے، وہ سب کے سب بہرحال مسلمان ہیں، مسلمان ماؤں کا دودھ پیئے ہوئے ہیں. لیکن چونکہ فوج کا جدید تصور یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ اقتدار میں ہو یا کسی طرح اقتدار میں آجائے تو فوج اس کا حکم مانے، اس کو تحفظ فراہم کرے. کتنا دکھ ہوتا ہے جب خبریں آتی ہیں کہ اتنے کارمل فوجی مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے. یہ ٹھیک ہے کہ مجاہدین، اسلام کے لئے، حریت کے لئے اور خدا ناآشنا بلکہ خدادشمن روسی جارحیت کے خلاف جنگ کر رہے ہیں. اس لحاظ سے ان کی کامیابی پر خوشی ہوتی ہے. لیکن ساتھ ہی اس میں دکھ کا یہ پہلو موجود ہے کہ ہلاک ہونے والے بھی تو مسلمان ہیں. وہ ایک حکومت کے حکم کے تحت جنگ کر رہے ہیں. دونوں طرف سے مسلمانوں ہی کا خون بہہ رہا ہے. روسی فوج کے لوگ تو کارمل فوج کی نسبت کم ہی مرے ہوں گے. دونوں طرف سے ایک دوسرے کے ہاتھوں مسلمان ہی ہلاک ہو رہے ہیں. اس طرح ہر ملک کے علیحدہ علیحدہ مسائل ہیں. چنانچہ ہمیں پاکستان کے حالات کو ایک طرف رکھ کر اصولی طور پر بات سمجھنی ہو گی. 

جہاں تمدنی ارتقاء نے حکومت کے ہاتھ میں بے پناہ قوت فوج کی شکل میں دے دی ہے وہاں اس تمدنی ارتقاء کی بدولت دو اہم تبدیلیاں اور بھی آئی ہیں. دینی مزاج کے ہمارے اکثر لوگ ان تبدیلیوں سے واقف نہیں ہیں. چنانچہ راقم جب اسلامی انقلاب کے چھٹے مرحلہ کے طور پر مسلح تصادم کی بات کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اور میری تنظیم پاکستان میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے کوشاں ہے تو وہ چونک جاتے ہیں کہ یہ لوگ تو مسلح بغاوت کی بات کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے. جب سیرتِ مطہرہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے فلسفۂ انقلاب اخذ کیا جائے گا اور حضور  کی سیرتِ مبارکہ کے معروضی مطالعہ سے انقلابِ محمدی کے مراحل ومدارج کے تعین کی کوشش کی جائے گی تو لامحالہ چھٹے اور آخری مرحلہ کے طور پر مسلح تصادم کا ذکر آئے گا. البتہ راقم نے اس موضوع پر جب بھی اظہارِ خیال کیا ہے تو ان متبادل طریقوں کا بھی ذکر کیا ہے جو تمدن کے موجودہ ارتقاء نے دنیا کو دیئے ہیں.