مسلمانوں کے لئے تسلّی و تشفی کے کلمات

ان دو آیات میں اس گھبراہٹ پر کہ جو بعض مسلمانوں کی طرف سے اللہ کی راہ میں ایذائوں‘ تکلیفوں اور مصیبتوں کے ضمن میں ظاہر ہوئی تھی‘ اللہ کی جانب سے کسی قدر خفگی کا اظہار نمایاں تھا. لیکن اب اگلی آیت میں ان کی تسلّی‘ دلجوئی اور تشفی کے ضمن میں ان کفار و مشرکین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو انہیں ستا رہے تھے اور جن کے ہاتھوں انہیں ایذائیں پہنچ رہی تھیں‘ فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان بدبختوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہماری پکڑ سے بچ نکلیں گے! ابوجہل نے جو حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو برچھا مار کر شہید کیا اور اس نے حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو اس طور سے شہید کیا کہ چار مضبوط و توانا سانڈ اونٹ لے کر‘ ان چاروں سے رسے باندھ کر‘ ان میں سے ایک رسے سے حضرت یاسرؓ :کا ایک بازو‘ دوسرے سے دوسرا بازو‘ تیسرے سے آپؓ :کی ایک ٹانگ اور چوتھے سے دوسری ٹانگ باندھی گئی اور پھر ان چاروں اونٹوں کو جو دوڑایا گیا تو حضرت یاسرؓ کے جسم کے پرخچے اڑ گئے‘ اُمیہ بن خلف جو حضرت بلالؓ :کو ستا رہا تھا اور حضرت خبابؓ بن ارت کو جو ایذائیں دی جا رہی تھیں‘یہ آیۂ مبارکہ ان کی طرف اشارہ کر رہی ہے. فرمایا: 

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾ 
’’کیا ان لوگوں نے جو اِن برائیوں میں مبتلا ہیں (کہ ہمارے چاہنے والوں کو ستا رہے ہیں) یہ گمان کیا ہے کہ ہماری پکڑ سے بچ نکلیں گے؟ بڑی بری رائے ہے جو وہ قائم کرتے ہیں.‘‘

اس میں دراصل کفار و مشرکین سے تخاطب نہیں ہے. بات ان سے کہنی مقصود ہی نہیں ہے‘ بلکہ درحقیقت یہ مسلمانوں کو سنایا جا رہا ہے اور اس طرح ان کے زخمی دلوں پر گویا ہمدردی کا پھاہا رکھا جا رہا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ تمہیں ایذائیں دینے والے یہ مشرکین ہماری گرفت سے بچ نکلیں گے‘ یہ تو ہماری حکمت کے تحت ہے کہ ہم نے ان مشرکین کی رسی دراز کی ہوئی ہے. اس ذریعے سے دراصل تمہاری آزمائش مقصود ہے. تمہیں ان آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزار کر کندن بنانا ہے. اسی لئے ابھی ہم نے انہیں ڈھیل دے رکھی ہے. لیکن اگر وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہماری پکڑ سے بچ نکلیں گے تو وہ بڑے مغالطے میں ہیں. تم مطمئن رہو‘ ان میں سے ہر ایک کو اپنے کئے کی بھرپور سزا مل کر رہے گی. اگلی آیت میں مزید تسلّی اور دلجوئی کے لئے فرمایا: 

مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ٍؕ 
کہ جوکوئی اللہ سے ملاقات کا امیدوار ہے تو وہ جان لے کہ اللہ کا معین کردہ وہ وقت آکر رہے گا. اشارہ اہل ایمان کی طرف ہے کہ تم یہ سب تکالیف جھیل رہے ہو اللہ سے ملاقات کی اُمید میں‘ اس اُمید میں کہ ایک دن آئے گا کہ اپنے پروردگار سے کہ جو تمہارا مطلوب و مقصود ہے اور جس کی خاطر تم یہ تکالیف اٹھا رہے ہو‘ تمہاری ملاقات ہو گی. ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کر دے کہ کیا خبر وہ دن آئے گا بھی کہ نہیں!… مطمئن رہو‘اللہ کا وہ مقرر کیا ہوا وقت آ کر رہے گا. وہ گھڑی اٹل اور شدنی ہے. اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں. کسی وسوسے کو ذہن کے قریب مت پھٹکنے دو‘ تمہارا اجر محفوظ ہے. اور جان لو وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾ کہ جس کے لئے تم یہ سب کچھ جھیل رہے ہو وہ کوئی بے خبر ہستی نہیں ہے‘ وہ معاملہ نہیں ہے کہ مر گئے ہم انہیں خبر نہ ہوئی‘ وہ سمیع (سب کچھ سننے والا ) اور علیم (سب کچھ جاننے والا) ہے. جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نگاہوں میں ہے. بلالؓ کی زبان سے نکلنے والا کلمۂ توحید ‘ اس حال میں کہ پیاس کی شدت سے زبان باہر نکلی ہوئی ہے‘ دھوپ کی تمازت کی وجہ سے جان لبوں پر آئی ہوئی ہے‘ لیکن کلمۂ توحید ہی نکل رہا ہے اَحد ‘ اَحد‘ کہ میں تو ایک اللہ ہی کا ماننے والا ہوں‘ اسی کا پرستار ہوں‘ اس کے سوا کسی اور کو معبود ماننے کے لئے تیار نہیں. ان کی زبان سے نکلنے والا یہ کلمہ اللہ سن رہا ہے. ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ تمہارے دلوں سے جو صدائیں نکل رہی ہیں ان کا بھی جاننے والا ہے. تو پہلی دو آیات میں کسی قدر زجر‘ جھڑکی اور خفگی کا اظہار تھا اور اس کے بعد دو ہی آیات میں صحابہ کرامؓ کے لئے تسلّی‘ تشفی اور دلجوئی کا انداز اختیار کیا گیا.