اب اگر یہ حقیقت واضح ہو گئی تو فرمایا: سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ ’’ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے ربّ کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے‘‘. ’’سَابِقُوْا‘‘باب مفاعلہ سے ہے جس کا مطلب ہے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا. یہ لفظ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ تم دنیا کے طالب بن جاتے ہو تو دنیا میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہو . وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ والا نقشہ ہوتا ہے. اب اگر آخرت منزل مقصود بن گئی تو اس کے لیے بھی دوڑ لگائو.اس کے لیے بھی ایک دوسرے سے آگے نکلو. یہ نہ ہو کہ دنیا کے لیے تو تمہارے اندر جوش و خروش اور حرکت ہے‘ مگر آخرت کہنے کی حد تک تو مطلوب و مقصود ہے‘ لیکن اس کی طرف سے بڑی قناعت ہے‘ اس کے لیے کوئی بھاگ دوڑ اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں ہے. مسابقت کا جذبہ فطرتِ انسانی کے اندر موجود ہے .ایڈلر نے کہاہے کہ ایک دوسرے پر غالب آنے کی خواہش (The urge to dominate) ایک فطری جذبہ ہے . انسان کے اندر مسابقت کا جذبہ موجود ہے. اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ اس کے میدانِ کار کو بدل دیجیے. مسابقت مال و دولت میں نہ کیجیے‘بلکہ خیرات میں کیجیے. سورۃ البقرۃ میں بھی یہ مضمون آیا ہے : وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ (آیت ۱۴۸’’ہر ایک شخص کا کوئی نہ کوئی ہدف مقرر ہے جس کی طرف وہ پیش قدمی کر رہا ہے‘ تو (اے مسلمانو!)تم نیکیوں کے لیے مسابقت کرو!‘‘ تمہاری مسابقت اور استباق کا مرکز خیرات و حسنات‘ نیکیاں‘ بھلائیاں اور انصاف ہو. تم جہاد فی سبیل اللہ میں آگے سے آگے بڑھ کر سرفروشی کرو ‘ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو. تو دین کے معاملے میں یہ مسابقت ناپسندیدہ شے نہیں ہے‘ بلکہ قابل تعریف ہے. اس مسابقت کی مثالیں ہمیں صحابہ کرام ث میں ملتی ہیں.

حضرت عمرص فرماتے ہیں کہ غزوئہ تبوک کے موقع پر جب حضور نے فرمایا کہ دین کے لیے بڑا کڑا وقت آگیا ہے‘ اب جو کچھ بھی لا سکتے ہو لائو ‘ پیسے اور مال کی اشد ضرورت ہے‘ اس لیے کہ اسلحہ فراہم کرنا ہے‘ سواریوں اور زادِ راہ کا بندوبست کرناہے ‘تو اتفاقًا اُس وقت میرے پاس بہت دولت تھی. [’’اتفاقاً‘‘ کا لفظ میں اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ مہاجرین سب کے سب تاجر تھے اور تاجر کے پاس کبھی کبھار ہی نقد رقم موجود ہوتی ہے‘ ورنہ تو سارا مال تجارت میں ہی invest رہتا ہے.] حضرت عمر ص فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ اس موقع پر تو میں حضرت ابوبکر ص سے بازی لے ہی جائوں گا. میںنے اپنے سارے اثاثے کے دو حصے کیے اور ایک حصہ لا کر حضور کے قدموں میں حاضر کر دیا. لیکن حضرت ابوبکرص جو کچھ لائے تو حضور نے پوچھا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ عرض کیا کچھ نہیں چھوڑا ‘جو کچھ تھا لے آیا ہوں.ع ’’صدیق ؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس!‘‘ تو حضرت عمرص فرماتے ہیں اُس روز میں نے جان لیا کہ ابوبکر صدیقص سے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے.نوٹ کر لیجیے یہاں پر کمیت (quantity) کا اعتبار نہیں ہے. حضرت ابوبکر صدیق صاپنے گھر کا کل کا کل اثاثہ لے آئے اور حضرت عمرص اپنے سارے مال کا نصف لے آئے.یہاں یہ تفصیل زیربحث نہیں کہ کمیت کے اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق صکا مال کتنا تھااور حضرت عمرص کا مال کتنا تھا.لیکن کیفیت کے اعتبار سے حضرت صدیق اکبرؓ حضرت عمرؓ سے آگے بڑھ گئے‘ اس لیے کہ نصف تو بہرحال نصف ہوتا ہے‘ وہ کل کے برابر تو ہرگز نہیں ہو سکتا. بہرحال اس تفصیل کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ کرام ثمیں بھی مسابقت کا جذبہ تھا جو اِس واقعہ سے ظاہر ہو رہا ہے ‘لیکن وہ مسابقت فی الخیرات تھی. لہٰذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہئے.

اس ضمن میں نہایت سنہرا اصول یہ ہے کہ: ’’دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھا کرو جو تم سے پیچھے ہو‘ اور دین کے معاملے میں اس پر نگاہ رکھو جو تم سے آگے ہو‘‘. اس لیے کہ دین میں اپنے سے آگے والے کو دیکھنے سے دل میں عمل کرنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ اُبھرے گا کہ یہ آدمی اگر اتنا کچھ کر رہا ہے تو میں بھی کر سکتا ہوں‘ وہ بھی تو میری طرح کا انسان ہے. اور جو دین میں خود سے پیچھے ہے اس کو دیکھنے سے آدمی سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں بہت ہے‘ اس لیے کہ اس نے تویہ بھی نہیں کیا‘ تو اس سے دین میں ترقی رک جائے گی. اس کے برعکس دنیا داری میں آگے والے کو دیکھنے سے جذبہ اُبھرے گا 
کہ آپ دنیا کمانے کے لیے مزید محنت کریں اور پیچھے والے کو دیکھنے سے قناعت پیدا ہوگی کہ آخر اس کا بھی تو ان آسائشات کے بغیر گزارا ہو رہا ہے‘ آخر وہ بھی تو اسی دنیا میں رہ رہا ہے ‘تو اتنی محنت کر کے یہ سب کچھ حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے. پس دنیا کے لیے قناعت چاہیے . جیسا کہ مرزا عبدالقادر بیدل کا بڑا پیارا شعر ہے ؎ 

حرص قانع نیست بیدلؔ ورنہ درکارِ حیات
آنچہ ما درکار داریم اکثرش درکار نیست!

یعنی اے بیدلؔ! یہ تو محض ہماری حرص ہے کہ ہمارے پاس یہ بھی ہو اور وہ بھی ہو ‘یہ بھی ضروری ہے اور وہ بھی ضروری ہے‘ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ ہم جن چیزوں کو زندگی گزارنے کے لیے لازمی سمجھتے ہیں ان میں اکثریت ایسی چیزوں کی ہے کہ جو حقیقت میں درکار نہیں ہوتیں. تو دنیا میں اس کو دیکھو جو تم سے پیچھے ہے‘ تاکہ جو بھی تمہیں حاصل ہے اس پر قناعت پیدا ہو اور اللہ کے شکر کا جذبہ ابھرے. اور دین میں اس کو دیکھو جو تم سے آگے ہے‘ تاکہ تمہارے اندر بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو(۱) . تویہاں فرمایا جا رہا ہے ’’اس جنت کے حصول کے لیے دوڑ لگائو جس کا پھیلائو‘ جس کی پہنائی آسمان اور زمین جتنی ہے‘‘. یہی مضمون سورئہ آل عمران میں ان الفاظ میں آیا ہے : وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ (آیت ۱۳۳’’دوڑواپنے ربّ کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا پھیلائو آسمانوں اور زمین کے برابر ہے.‘‘

ان دونوں آیات میں لفظ ’’عرض‘‘ آیا ہے‘ اسے اچھی طرح سمجھ لیجیے . اردو زبان میں ہم عرض‘ طول کے مقابلے میں استعمال کرتے ہیں اور عرض کم ہوتا ہے اور طول زیادہ ہوتا ہے. لیکن عربی زبان میں ’’عرض‘‘ کسی شے کی مجرد وسعت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے. قرآن مجید میں ایک مقام پر الفاظ آئے ہیں : 
ذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾ ’’لمبی لمبی دعائیں کرنے والا‘‘. (حٰمٓ السجدۃ) یعنی جب انسان کو کوئی تکلیف آتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں مانگنا شروع کر دیتا ہے اور جب (۱) اس ضمن میں یہ حدیث نبویؐ بھی بہت پیاری اور سبق آموز ہے کہ : ’’اِذَا نَظَرَ اَحَدُکُمْ اِلٰی مَنْ فُضِّلَ عَلَیْہِ فِی الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَسْفَلَ مِنْہُ‘‘ (متفق علیہ) یعنی ’’جب تم میں سے کسی کی نظر ایسے شخص پر پڑے جس پر اللہ کا فضل مال اور جسم میں تم سے زیادہ ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ ایسے شخص کو بھی دیکھے جو (ان چیزوں میں) اس سے نیچے ہو.‘‘ ہماری طرف سے نعمت مل جاتی ہے تو ہمیں بھول جاتا ہے‘ اسے یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ کبھی وہ اپنے پروردگار کوپکارتا بھی تھا‘ کبھی اس سے دعائیں بھی کرتا تھا .تو آدمی جب احتیاج میں ہوتا ہے تو اللہ کو پکارتا ہے. تو یہاں عرض سے پھیلائو مراد ہے کہ تم جنت کا تصور کر ہی نہیں سکتے. 

قرآن مجید سائنس اور فلسفے کی اصطلاحات استعمال نہیں کرتا‘ بلکہ عام انسانی ذہن کی سطح کے برابر آکر بات کرتا ہے. چنانچہ یہاں قرآن نے کائنات کی وسعت کے لیے بھی آسمان اور زمین کے الفاظ استعمال کیے ہیں‘ اس لیے کہ کائنات کے بارے میں ہمارا کل تصور یہی ہے . یہاں مراد یہ ہے کہ جنت کتنی بڑی ہو گی تم اس کا تصور نہیں کر سکتے ‘ تمہارا تو اپنا ذہن بھی بہت مختصر ہے. آج کے ترقی یافتہ اور سائنسی دور کے انسان کوبھی ابھی کچھ پتا نہیں کہ یہ کائنات کتنی طویل و عریض ہے‘ کہاں سے شروع ہو رہی ہے اور کہاں ختم ہو رہی ہے. ٹیلی سکوپ جتنی بڑی ہوتی جا رہی ہے کائنات بھی اتنی ہی مزید پھیلتی نظر آ رہی ہے. بہرحال کسی ٹیلی سکوپ نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اس جگہ پر کائنات ختم ہوتی ہے اور وہاں تک ہماری رسائی ہو گئی ہے. تو اس اعتبار سے قرآن مجید وہ الفاظ استعمال کرتا ہے جسے عرب کا عام بدو بھی سمجھ لے . چنانچہ فرمایا: 
عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ کہ اس جنت کی پہنائی اور وسعت تم کیا سمجھو گے؟ بس یوں سمجھو آسمانوں اور زمین جتنی .