محض اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخلہ ممکن نہیں

آگے ارشاد ہے: ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ’’یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے گا دے گا‘‘. ’’فضل‘‘ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے. اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں جو باہم مترادفات ہیں اور ان کا مطلب ہے بدلہ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے.لیکن قرآن مجید میں جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں ’’فضل‘‘ کا لفظ استعمال ہواہے.گویاقرآن مجید کا تصور یہی ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا‘ جب تک کہ فضل خداوندی اس کی دستگیری نہ کرے .اس بارے میں ایک بڑی پیار ی حدیث ہے. حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

لَنْ یُّدْخِلَ اَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا : وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ : وَلَا اَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ (۱
’’تم میں سے کسی کا عمل بھی اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کر سکے گا‘‘. صحابہ کرامث نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی نہیں یارسول اللہ ؟ آپؐ نے فرمایا:’’ہاں مجھے بھی نہیں‘ اِلاّ یہ کہ مجھے اللہ اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے.‘‘

اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے گا تو جنت میں میرا داخلہ ہو گا. یہ ایک اضافی بات ہے جو حضور نے اپنے بارے میں بھی فرما دی ‘لیکن دراصل بات یہ سمجھانی مقصود ہے کہ کبھی بھی جنت کو اپنا استحقاق نہ مجھئے ‘اپنی امکانی حد تک کام کر کے پھر بھی فضل خداوندی کا ہی سہارا لیجیے. قرآن مجید میں اہل جنت کا ترانہ نقل ہوا ہے‘جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے : 
الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب المرضی‘ باب تمنی المریض الموت. وصحیح مسلم‘ کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار‘ باب لن یدخل احد الجنۃ بل برحمۃ اللّٰہ تعالٰی. ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ (الاعراف:۴۳’’اُس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے‘اورہم یہاں نہ پہنچ پاتے اگر اللہ ہی ہمیں نہ پہنچاتا‘‘.تو لفظ ’’فضل‘‘ کے حوالے سے اس بات کو نوٹ کر لینا چاہیے. آگے فرمایا: وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾ ’’اوراللہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے.‘‘