اب ہم اس آیہ مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں . فرمایا: لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ ’’ہم نے ہی بھیجا اپنے رسولوں کو بیّنات کے ساتھ اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی‘‘. سورۃ الصف کی آیت ۹ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ اور سورۃ الحدید کی زیر مطالعہ آیت میں اسلوب کا یہ فرق ہے کہ وہاں واحد کے صیغے میں‘ تعین کے ساتھ محمدرسول اللہ کی رسالت کا مقصد بیان ہو رہا ہے‘ جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ کا عمومی قانون اجتماعی طور پر تمام رسولوں کے بارے میں بیان ہو رہا ہے. یہاں ایک رسول کی بات نہیں ہو رہی ‘ بلکہ یہ ایک قاعدہ کلیہ اور قانون ہے : لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا ’’ہم ہی نے بھیجا اپنے رسولوں کو.‘‘

اب یہاں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ بھیجی گئیں : بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ َ یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو یہ تین چیزیں دے کر بھیجا: (۱)بیّنات (۲) کتاب ‘ اور(۳) میزان. ان میں سب سے پہلی چیز ’’بینات‘‘ ہے. یہ لفظ اس سورئہ مبارکہ کے دوسرے حصے میں بھی آ چکا ہے: ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ٍ (آیت ۹’’وہی ہے جو اپنے بندے پر آیاتِ بینات نازل کر رہا ہے‘‘. اس کی میں وضاحت کر چکا ہوں کہ بین کہتے ہیں اُس شے کو جو اَز خود ظاہر ہو‘ خود نمایاں ہو‘ جس کو کسی اور دلیل کی حاجت نہ ہو‘ جس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہ ہو. ع ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب!‘‘یہ لفظ عام طور پر رسولوں کے تذکرے میں معجزات کے لیے آتا ہے. کسی رسول کو جومعجزہ دیا جاتا تھا وہ گویا بالکل واضح کر دیتا تھا کہ یہ بات کسی انسانی صلاحیت اور طاقت سے وجود میں نہیں آ سکتی‘ یقینا یہ اللہ کی طرف سے ہے. جیسے کہ قومِ ثمود کو ان کے مطالبے پر ایک معجزہ دیا گیا تھا. انہوں نے کہا تھاکہ اے صالح! ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اگر تم سامنے کی چٹانسے ایک گابھن اونٹنی برآمد کرا لو. انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ یہ ماننے کو تیار ہیں‘ لہٰذا انہیں یہ معجزہ دکھا دیا جائے. اس پر چٹان شق ہوئی اور گابھن اونٹنی برآمد ہو گئی‘ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی اونٹنی (نَاقَۃُ اللّٰہ) قرار دیا‘ لیکن اس ناہنجار قوم نے پھر بھی نہیں مانا. چنانچہ وہ قوم ہلاک کر دی گئی‘ برباد کر دی گئی.معجزے کے آنے کے بعد بھی اگر قوم ایمان نہ لائے تو پھر اس کی ہلاکت ایک طے شدہ امر ہے.