تعلیم حکمت

جہاں تک ’’حکمت‘‘ یعنی دانائی کا تعلق ہے یہ درحقیقت تعلیم وتربیت نبویؐ کا درجۂ تخصُّص ہے. یہ سب کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ صرف اُن افراد کے لیے ہے جو اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے حامل ہوں. انہیں قرآن حکیم سے وہ حکمت اور دانائی حاصل ہوتی ہے جس سے تمام احکام مبنی بر حکمت نظر آنے لگیں اور انہیں اس حقیقت کا ادراک حاصل ہو جائے کہ یہ احکام ہم پر جبراً اٹھونسے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ان میں ہماری ہی مصلحتیں ہیں‘ ان میں ہمارے لیے فوائد ہیں‘ انہی سے نظام انسانی درست ہو گا‘ انہی سے ہماری معاشرت اور معیشت کا نظام درست ہو گا‘ انہی کے نتیجے میں یہاں عدل و انصاف کا دَور دَورہ ہو گا. جب یہ بصیرتِ باطنی پیدا ہو جاتی ہے تو یہ حکمت ہے. 

نبی اکرم  کے اساسی منہاج کو ان چار اصطلاحات کے حوالے سے سمجھنا ضروری ہے‘ اور ان چاروں کا تعلق قرآن حکیم سے ہے. امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے لیے بڑی قابل احترام شخصیت ہیں‘ انہوں نے حکمت سے مراد حدیث یا سنت لی ہے‘ اور اس سے عام طور پر یہ گمان ہو گیا ہے کہ حکمت کا تعلق قرآن سے نہیں ہے. حالانکہ قرآن خود کہتا ہے : 

ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ 
(الاسرائ:۳۹

’’یہ ہے وہ شے(اے نبیؐ ) جو آپ پر آپ کے رب نے نازل کی ہے از قبیل ِ حکمت .‘‘
گویا حکمت بھی جناب محمد ٌرسول اللہ  پر ’’نازل ‘‘ کی گئی ہے. ظاہر بات ہے کہ حدیث کے بارے میں یہ الفاظ نہیں آئے. مزید برآں سورۃ البقرہ کی آیت۲۳۱ اور سورۃ النساء کی آیت۱۱۳ میں ’’کتاب‘‘ اور ’’حکمت‘‘ دونوں کے ساتھ’’نزول‘‘ کالفظ آیا ہے. البتہ یہ بات ایک حکیمانہ نکتہ کے طور پر سمجھ لیجیے کہ پورے قرآن کی شرح حدیث نبویؐ ہے‘ اگرچہ ایک اعتبار سے ان کے مابین معکوس
(reciprocal) نسبت ہے. یعنی قرآن حکیم میں’’آیات‘‘ کا بیان بہت تفصیلی ہے. دو تہائی قرآن مکی ہے اور مکی سورتوں میں سب سے بڑا مضمون یہی آیاتِ آفاقی و انفسی کا ہے‘ لیکن حدیث میں اس کی تشریح و توضیح بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی. اس کو اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا کہ جیسے جیسے سائنس آگے بڑھے گی آیاتِ آفاقی و انفسی خود بخود مزید اجاگر ہوتی چلی جائیں گی. حدیث میں اس کی شرح کی ضرورت ہی نہیں تھی اور نہ انسان اُس وقت جبکہ جناب محمد ٌرسول اللہ  دنیا میں بھیجے گئے‘ اس پوزیشن میں تھا کہ ان کو بالتفصیل سمجھ سکتا. چنانچہ ان کے بارے میں قرآن حکیم میں فرما دیا گیا: سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾ (حٰمٓ السجدۃ) 

’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی‘ یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے.‘‘

اور اب جتنی سائنسی ترقی ہو رہی ہے اور جو سائنسی انکشافات اور اکتشافات ہورہے ہیں ان کے نتیجے میں ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن مجید یہ بات اس انداز میں بہت پہلے کر چکا ہے. البتہ کتاب ‘ تزکیہ اور حکمت‘ ان تینوں کی شرح آپ کو حدیث میں ملے گی‘ لیکن ان میں سب سے زیادہ شرح حکمت کی اور پھر احکام کی ملے گی. گویا پہلی چیز ’’تلاوتِ آیات‘‘ قرآن ہی میں سب سے زیادہ تفصیل سے آگئی‘ لہٰذا حدیث میں اس کا مفصل تذکرہ کرنے کی ضرورت نہ تھی‘ جبکہ آخری چیز ’’حکمت‘‘ قرآن مجید میں بہت خفی اور مخفی ہے‘ لہٰذا حدیث میں اس کی تفصیلی شرح آئی ہے. اس اعتبار سے امام شافعی ؒکے قول کی بھی ایک تاویل اور توجیہہ ہو جاتی ہے. لیکن حکمت سے صرف حدیث مرادلینا صحیح نہیں ہے. بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن ہی تلاوتِ آیات سے متعلق ہے‘ قرآن ہی تزکیہ کا ذریعہ ہے‘ قرآن ہی کتاب یعنی احکام کا مجموعہ ہے اور قرآن ہی کے اندر حکمت بھی ہے.