منہج انقلابِ نبویؐ کا حالاتِ حاضرہ پر انطباق

دوسری بات یہ کہ آج وقت کے دریا میں بہت سا پانی بہہ گیا ہے اور حالات میں بہت تبدیلی آ چکی ہے. لہذا اس وقت ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں نبی اکرم کے طریق انقلاب پر جوں کا توں عمل کیا جائے گا یا اس کے لیے کسی اجتہاد کی ضرورت ہے. میرے خیال میں اوپر بیان کیے گئے پہلے پانچ مراحل میں قطعاً کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے. ہمارا انقلابی نظریہ آج بھی وہی نظریہ توحید ہے اور آج بھی ہمیں ایمان کی دعوت دینی ہے جس کا منبع و سرچشمہ قرآن ہے. یہ تصور درست نہیں ہے کہ ہم مسلمان ہیں تو ہمارے اندر ایمان توموجود ہے. اس لیے کہ اسلام اور شے ہے‘ ایمان اور شے ہے. ہم مسلمان اس لیے ہیں کہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوگئے ہیں. ایمان ہمیں اپنے قلوب و اذہان میں خود پیدا کرنا ہے. توحید پر‘ آخرت پر‘ رسالت پر یقین والاایمان ہماری اولین ضرورت ہے ؎
 
یقیں پیدا کر اے ناداں یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری!

رسول اللہ کا آلۂ انقلاب قرآن تھا. آج بھی یہی قرآن ہمارا آلۂ انقلاب ہے. لہذا رجوع الی القرآن کی دعوت وسیع پیمانے پر عام کی جائے. میرے نزدیک قرآن کی حیثیت مقناطیس کی ہے جو سلیم الفطرت لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے. جن لوگوں کی فطرت مسخ ہو چکی ہو ان پر اس کا اثر نہیں ہوتا. جیسے آپ کو معلوم ہے کہ مقناطیس لوہے کے ٹکڑوں کو تو کھینچ لے گا لیکن لکڑی کے ٹکڑوں کونہیں کھینچے گا. لہذا قرآن کے مقناطیس کو اس معاشرے میں پھیلانے کی ضرورت ہے.الحمد للہ کہ میں نے چالیس برس تک اس شہر لاہور میں قرآن کی چکی پھیری ہے. مجھے یہ خطاب بھی دے دیا گیا تھا کہ یہ قرآن کا قوّال ہے اور میں نے خوشی سے اس خطاب کو قبول کیا. سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ؎

’’ماہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم
الا حدیثِ دوست کہ تکرار می کنیم‘‘

کے مصداق میں نے جو کچھ پڑھا تھا سب بھلا دیا. میڈیکل پڑھی تھی سب بھلا دی. ہاں یہ حدیثِ دوست ہے‘ اللہ کاکلام ہے‘ اس کی تکرار میںکر رہا ہوں. بہرحال پہلا زینہ یہی ہو گا. پھر جو لوگ اس میگنٹ کے ساتھ چمٹ کر آجائیں انہیں بیعت کی بنیاد پر منظم کیا جائے ‘ جو محمدرسول اللہ ہمارے لیے بطور اُسوہ چھوڑ گئے ہیں. تنظیم کی بنیاد کسی انگریزی نظام پر نہ ہو‘ کوئی دو تین سال کی امارت کا معاملہ نہ ہو‘ کوئی انتخابِ امیر کا معاملہ نہ ہو‘ بلکہ جس داعی نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اس کی بات کو صحیح تسلیم کیا‘ اس کی دعوت پر اعتماد کیا‘ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ اس عہد کے ساتھ دے دو کہ ہم شریعت کے دائرہ کے اندر اندر آپ کا حکم مانیں گے.اپنامشورہ ضرور دیں گے ‘ لیکن فیصلہ آپ کا ہو گا. جو لوگ اس بنیاد پر جمع ہو جائیں اب ان کی تربیت کی جائے .قرآن ان کے اندر اتارا جائے. راتوں کو جاگنے کی تشویق دلائی جائے. اللہ کی راہ میں انفاقِ مال اور بذلِ نفس کی تلقین کی جائے.نفاق کو ختم کرنے والی شے انفاق ہے. 

اس کے ساتھ ساتھ صبر محض 
(Passive Resistance) کا مرحلہ بھی شروع ہو جاتا ہے. آج صبر محض کی شکل کیا ہو گی؟ ہم ابھی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں. مکہ کی چھوٹی سی آبادی میں تو سوپچاس آدمی بھی خطرہ بن کر نظر آ گئے تھے‘ لیکن یہاں پندرہ کروڑ میں دو چار ہزار آدمی ایسے ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ لہذا ابھی ان پر حکومت کی طرف سے یااس نظام کی طرف سے کوئی داروگیر شروع نہیں ہو گی. البتہ ان کا امتحان شریعت پر عمل کرنے میں ہو گا. انہیں رشوت چھوڑنی ہو گی‘ لیکن اس سے اپنے گھر والے دشمن ہو جائیں گے. اس لیے کہ وہ ناشتے میں پہلے پراٹھے اور انڈے کھاتے تھے ‘اب انہیں روکھی سوکھی پر گزارہ کرنا پڑے گا. سورۃ التغابن میں ارشاد ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ (آیت ۱۴’’اے ایمان والو!تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے تمہارے دشمن ہیں‘ پس ان سے بچ کر رہو‘‘. آپ اپنے گھر میں شرعی پردہ نافذ کریں گے تو آپ کی پوری برادری آپ کا سوشل بائیکاٹ کر دے گی. تو یہ ہے وہ صبر محض (Passive Resistance) کا مرحلہ جس سے ابھی ہم گزر رہے ہیں‘ لیکن اللہ کرے کہ وہ وقت بھی آئے کہ اتنے لوگ مجتمع ہوں کہ حکومت کو ان سے اندیشہ لاحق ہو جائے کہ یہ اس نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں. پھر داروگیر ہو گی‘ دارورسن کا معاملہ ہو گا.

دورِ حاضر میں حالات واقعتا اس درجے تبدیل ہو گئے ہیں کہ انقلاب کے آخری مرحلے یعنی مسلح تصادم 
(Armed Conflict) کے بارے میں اجتہاد کی واقعی ضرورت ہے. اس لیے کہ نبی اکرم کے دور میں ایک طرف مسلمان اور دوسری طرف کفار تھے‘ اور حربی کافر کی گردن مارنے میں کسی کو کیا جھجک ہو سکتی تھی. جبکہ آج صورت حال یہ ہے کہ اِدھر بھی مسلمان ہیں اور اُدھر بھی مسلمان. ہمارے حکمران جیسے بھی ہوں‘ ہیں تو مسلمان. بھٹو‘ بے نظیر‘ ضیاء الحق‘ نواز شریف اور پرویز مشرف سب مسلمان ہیں. دوسرے یہ کہ اُس زمانے میں طاقت کا فرق صرف تعداد کے اعتبار سے تھا.اِدھر ۳۱۳ رضاکار (volunteers) تھے تو اُدھر ایک ہزار رضاکار. اُدھر بھی باقاعدہ تربیت یافتہ مسلح فوج نہیں تھی. ایسا بھی نہیں تھا کہ اُدھر ٹینک ‘ توپیں‘ میزائل اور بم ہوں اور اِدھر مجاہدین صرف تلواریں لیے کھڑے ہوں. رسول اللہ کی فوج کا رسالہ دو گھوڑوں پر مشتمل تھا‘ اُدھر سو گھوڑوں پر مشتمل رسالہ تھا. چنانچہ تعداد میں فرق ضرور تھا‘ نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہ تھا.

مزید برآں عمرانی ارتقاء 
(Social Evolution) کے نتیجے میں آج اس بات کا امکان موجود ہے کہ بغیر جنگ کے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے. آج یہ مانا جاتا ہے کہ ریاست اور ہے‘ حکومت اور ہے. شہری ریاست کے وفادار ہوتے ہیں‘ حکومت کے نہیں.حکومت کی تبدیلی تو عوام کا حق ہے. اُس وقت تک ابھی عمرانی ارتقاء اس سطح تک نہیں پہنچا تھا‘ لہذا حکومت اور ریاست گڈمڈ تھے. اب یہاں پر بغیر جنگ کے حکومت تبدیل کرنے کے دو راستے ہیں‘ ایک الیکشن کا راستہ اور ایک احتجاجی تحریک (Agitation) کا راستہ. الیکشن کے راستے سے نظام نہیں بدل سکتا‘ خواہ الیکشن کتنا ہی شفاف اور منصفانہ ہو. اس سے تو صرف نظام کو چلانے والے ہاتھ بدل جاتے ہیں. اس لیے کہ آپ کے معاشرے میں طاقت کے جو ستون موجود ہیں الیکشن میں انہی کا انعکاس ہو گا. اگر ملک میں جاگیردارانہ نظام ہے تو کوئی جاگیردار ہی منتخب ہو کر آئے گا. اگر سرمایہ دارانہ نظام ہے تو کوئی سرمایہ دار ہی آئے گا. یہ تو شہروں میں کچھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے کہ کبھی کراچی میں جماعت اسلامی کی پوزیشن مستحکم ہو گئی تھی‘ کبھی ایم کیو ایم کی ہو گئی. کیونکہ شہروں میں نہ جاگیردار ہیں نہ قبائلی سردار. البتہ ہمارے دیہی علاقوں میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام قائم ہے. سرمایہ دار اور جاگیردار الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کر اقتدار میں آئیں گے تو کیا وہ جاگیرداری اور سرمایہ داری ختم کر دیں گے؟اس طرح تو وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماریں گے.تو جان لیجئے کہ الیکشن کسی نظام کو چلانے کے لیے ہوتا ہے‘ اسے بدلنے کے لیے نہیں ہوتا. امریکہ میں دوپارٹیز ہیں‘ ری پبلیکنز اینڈ ڈیموکریٹس. ان دونوں کے مابین امریکہ کے نظام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے. دونوں پارٹیوں کا دعویٰ صرف یہ ہے کہ ہم اس نظام کواچھے اندازسے چلا سکتے ہیں.ان کے منشور میں فرق ہو گا تو ٹیکسیشن پالیسی ‘ ہیلتھ پالیسی یا امیگریشن پالیسی کا ہو گا. برطانیہ میں کنزرویٹوز اور لیبر پارٹی کے نام سے دو پارٹیاں ہیں.نظام کے بارے میں ان کے مابین بھی کوئی اختلاف نہیں ہے. ہاں ‘اگر امریکہ میں کمیونسٹ ہوں تو وہ نظام کے خلاف بولیں گے.چنانچہ سی ایٹل اور واشنگٹن میں گلوبلائزیشن کے خلا ف ہونے والےمظاہرے یہ پتا دیتے ہیں کہ وہاں کمیونسٹ عنصر موجود ہے.لیکن ظاہر بات ہے وہ لوگ الیکشن کا راستہ کبھی بھی اختیار نہیں کریں گے‘ الیکشن کے ذریعے ان کی کامیابی کا سوال ہی نہیں.