سلسلۂ ا شاعتِ تنظیمِ اسلامی نمبر ۷
تنظیم اسلامی کی دعوت ڈاکٹر اسرار احمد بانی ٔ تنظیمِ اسلامی

بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسرار احمد حفظہ اللہ کا ایک نہایت جامع خطاب جو آپ نے امیر تنظیم اسلامی کی حیثیت سے تنظیم اسلامی حلقہ لاہورکے زیر اہتمام منعقدہ اجتماع سے فرمایا. یہ اجتماع ۲۵؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء کو قرآن آڈیٹوریم لاہورمیں ہوا. سامعین میں رفقاء تنظیم اسلامی لاہور کے اعزہ و احباب کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی‘جنہیں بطور خاص اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا.

خطبۂ مسنونہ کے بعد: 

اَعُوذ باللّٰہ مِنَ الشیطٰن الرَّجیم . بِسْم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیم 

قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ 
(یوسف) 

معزز حضرات اور محترم خواتین!

اِس وقت جو حضرات یہاں جمع ہیں ان میں دو قسم کے لوگ ہیں. ایک تو وہ ہیں جوپہلے سے تنظیم اسلامی کے قافلے میں شریک ہیں اور دوسرے وہ حضرات ہیں جنہیں تنظیم اسلامی میں پہلے سے شامل افراد نے اپنے احباب اور اعزہ و اقارب میں سے خصوصی دعوت دے کر یہاں بلایا ہے تاکہ ان کے سامنے تنظیم کا پیغام رکھا جا سکے اور اس طرح ان کو تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی جائے. ظاہر بات ہے کہ اِس وقت میرے اصل مخاطب دوسری قسم کے حضرات ہیں. جو حضرات پہلے سے تنظیم میں شامل ہیں وہ تو کسی نہ کسی درجے میں تنظیم اسلامی کے پیغام‘اس کی دعوت‘اس کے پروگرام اور اس کے اغراض و مقاصد سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ متفق ہیں اور اس حد تک متفق ہیں کہ انہوں نے اپنے وقت‘اپنی صلاحیتوں‘اپنے وسائل اور اپنی توانائیوں کا کچھ حصہ اس کے لیے وقف کیا ہے. اگرچہ شعور کے مختلف درجے اور فہم کے مختلف مراحل ہیں‘چنانچہ کسی کے سامنے یہ بات بہت واضح ہے اور کسی کے سامنے اس کا نقشہ اجمالاً موجود ہے‘لیکن بہرحال وہ سب حضرات اس سے کسی نہ کسی درجے میں واقف ہیں.

لہٰذا اِس وقت میرا اصل خطاب ان سے نہیں ہے‘بلکہ میرا روئے سخن ان حضرات کی طرف ہے کہ جنہیں آج‘خاص طور پر دعوت دی گئی ہے اور وہ یہاں اس لیے تشریف لائے ہیں کہ سمجھیں کہ تنظیم اسلامی کیا ہے‘اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں‘اور اس کا طریقہ کار کیا ہے‘تاکہ اگر ان کے دل و دماغ گواہی دیں کہ بات صحیح ہے تو وہ اس میں شمولیت کا فیصلہ کریں. تنظیم میں پہلے سے شامل حضرات کے لیے یہ ایک طرح کی تذکیراور یاددہانی ہو گی.